بلوچستان میں دہشت گردی کے باوجود کوئی افسر معطل نہیں ہوا، امن و امان کے 80 ارب روپے کہاں جا رہے ہیں

کوئٹہ(آوازٹائمز/انعام اللہ اچکزئی)امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے متعدد واقعات کے باوجود کسی افسر کو معطل نہیں کیا گیا۔ ہماری زندگیوں کا مقصد اب صرف فاتحہ خوانی اور مذمتیں کرنا رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان کا دشمن ہے تو دہشت گردی صرف بلوچستان میں ہی کیوں ہوتی ہے؟مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی کے ذمہ دار وہ ادارے ہیں جو سالانہ 80 ارب روپے کا بجٹ لیتے ہیں، لیکن حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ پنجگور، زیارت، دکی سمیت ہر پرامن علاقہ غیر محفوظ ہو چکا ہے، جبکہ حکومت اور سیکیورٹی فورسز تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارڈرز بند ہیں تو دہشت گرد کہاں سے آرہے ہیں؟ گوادر میں فی گاڑی پندرہ ہزار روپے بھتہ وصول کیا جا رہا ہے اور انتظامیہ ایسے عناصر کو اپنے لوگ قرار دے کر بچاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، مگر بلوچستان میں دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں