کوئٹہ(آوازٹائمز/انعام اللہ اچکزئی)پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق وفاقی وزیر شازیہ مری نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ حکومت سازی سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی بلوچستان میں عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں آئی ہے اور اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرے گی:نجی ٹی وی:سے گفتگو کرتے ہوئے شازیہ مری نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان بلوچستان میں اقتدار کی ڈھائی ڈھائی سالہ تقسیم کے معاہدے کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ جب شہباز شریف وزارتِ عظمی کے لیے پیپلز پارٹی کے پاس آئے تھے تو کچھ شرائط اور نکات پر بات ضرور ہوئی تھی، جن پر صدر آصف علی زرداری نے معاہدوں پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن ان معاہدوں میں بلوچستان حکومت کی شراکت کا کوئی ذکر نہیں تھا۔شازیہ مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے بغیر بلوچستان اسمبلی کا کورم بھی مکمل نہیں ہوتا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ صوبائی سیاست میں پیپلز پارٹی کا بنیادی کردار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقیاتی فنڈز اور سرکاری پروگراموں کے فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ شفاف انداز میں سب کے سامنے ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ بعض مسلم لیگ(ن) رہنماوں کے دعووں کے باوجود پیپلز پارٹی کی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ بلوچستان میں حکومت سازی پر کوئی سیاسی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق شازیہ مری کا یہ بیان پیپلز پارٹی کی اندرونی صفوں میں پیدا ہونے والے خدشات کو کم کرنے کی کوشش ہے، تاکہ یہ تاثر ختم ہو کہ پیپلز پارٹی بلوچستان میں اپنی حکومت ن لیگ کے ساتھ بانٹنے پر تیار ہے۔






