کوئٹہ(آوازٹائمز)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران 450نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں جگر، خون، پھیپھڑوں، چھاتی، سروائیکل اور کولوریکٹیل کینسر کے مریض شامل ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق کینسر کی درجہ بندی اس عضو کے لحاظ سے کی جاتی ہے جہاں سے بیماری کا آغاز ہوتا ہے، جیسے مثانہ، گردہ یا جگر۔معروف آنکولوجسٹ ڈاکٹر فیروز اچکزئی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر 9 میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہوتی ہے، تاہم اگر بروقت تشخیص کر لی جائے تو علاج کی کامیابی کی شرح 95 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دودھ پلانے والی خواتین میں چھاتی کے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے، جبکہ 40 سال سے زائد عمر کی خواتین کے لیے سالانہ میموگرافی نہایت ضروری ہے۔ڈاکٹر فیروز اچکزئی نے مزید بتایا کہ غیر متوازن غذا، جنک فوڈ، چکنائی کا زیادہ استعمال، ذہنی دبا، ڈپریشن، اور دیر سے شادی یا زچگی اس مرض کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی سختی سے تردید کی کہ ایچ پی وی ویکسین بانجھ پن یا اعصابی مسائل پیدا کرتی ہے، اور کہا کہ سائنسی شواہد واضح کرتے ہیں کہ یہ ویکسین سروائیکل کینسر سے بچا کے لیے انتہائی مثر اور محفوظ ہے، لہذا والدین کو اپنی بچیوں کو یہ ویکسین ضرور لگوانی چاہیے۔پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود حاجی ولی محمد نورزئی نے: یواین اے: نیوز ایجنسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں بڑھتے ہوئے کینسر کے کیسز پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کینسر ایک مہنگا اور جان لیوا مرض ہے جس کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اپیل ہے کہ
کینسر کی روک تھام اور علاج کے لیے اضافی فنڈز فراہم کرے تاکہ غریب مریضوں کو ریلیف مل سکے۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ سماجی بہبود اپنی محدود وسائل کے باوجود کوئٹہ سمیت صوبے کے مختلف اسپتالوں میں کینسر کے مریضوں کو مفت ادویات فراہم کر رہا ہے۔ حاجی ولی محمد نورزئی نے وزیر اعلی بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ صوبے میں بڑھتے ہوئے کینسر کے کیسز کے پیش نظر خصوصی تحقیقاتی فنڈ، جدید تشخیصی مراکز، اور آگاہی مہمات کا آغاز کیا جائے تاکہ عوام میں شعور بیدار ہو اور اس مہلک مرض کی بروقت روک تھام ممکن ہو






