بلوچستان پر 25سالہ پرانی پالیسیاں مسلط، صوبہ آج بھی محرومی اور عدم استحکام کا شکار ہے

کوئٹہ(آوازٹائمز)جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کے حالات آج بھی اسی لیے بہتر نہیں کیے جارہے کہ مشرف دور کی باقیات اور اس وقت کی پالیسیاں گزشتہ 25 برس سے صوبے پر زبردستی مسلط ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ حکمران بدلتے رہے مگر طریقہ کار اور سوچ آج بھی وہی آمرانہ ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کو اب بھی بند دروازوں کی پالیسی، طاقت کے استعمال اور بے حسی کے فارمولے کے تحت چلایا جارہا ہے جس نے صوبے کو محرومی، بے روزگاری، بدامنی اور سیاسی عدم استحکام کے سوا کچھ نہیں دیا۔ پارٹی کے مطابق صوبے کے فیصلے آج بھی منتخب نمائندوں کے بجائے وہی پرانی طاقتیں پس پردہ بیٹھ کر کرتی ہیں اور انتظامیہ و وسائل پر کنٹرول رکھے ہوئے ہیں۔جمہوری وطن پارٹی نے کہا کہ 25 سال سے مسلط یہ طرزِ حکمرانی نوجوان نسل کو مایوسی کے دہانے پر لے آیا ہے اور عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ جب تک مشرف دور کی ذہنیت اور اس کی باقیات مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں بلوچستان ترقی نہیں کرسکتا۔پارٹی نے مطالبہ کیا کہ صوبے کو تجربہ گاہ سمجھنے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے، اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل کیے جائیں اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کے باشعور عوام اب یک زبان ہیں کہ صوبہ مزید زبردستی کی پالیسیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، امن و ترقی صرف عوام کی آواز کو تسلیم کرنے سے ہی ممکن ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں