کوئٹہ(آوازٹائمز)بلوچستان پیٹرولیم ایسوسی ایشن کے صدر اور ممتاز قبائلی و تاجر رہنما سید قیام الدین آغا نے صحافیوں اور تاجر نمائندوں سے تفصیلی ملاقات میں کہا کہ صوبے میں بڑھتی مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور ٹیکسوں نے پٹرولیم صنعت کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول پمپ مالکان کے کمیشن میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ملاقات میں پٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ، اس کی روک تھام، قانونی مارکیٹ کو پہنچنے والے نقصانات، بے روزگاری اور صوبے کے کاروباری مسائل پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ سید قیام الدین آغا نے کہا کہ بلوچستان میں پٹرولیم سیکٹر کئی برسوں سے چیلنجز میں گھرا ہوا ہے، خاص طور پر اسمگل شدہ پٹرول نے قانونی کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس سے حکومت کے ریونیو کے ساتھ پٹرول پمپ مالکان اور تیل کمپنیوں پر بھی منفی اثر پڑا۔انہوں نے بتایا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قلت، سپلائی کے بحران، قیمتوں میں اچانک اضافہ اور ٹرانسپورٹ و صنعتوں کی ضروریات متاثر ہونے سے صوبے کی معیشت دبا میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جدید ٹریکنگ سسٹم، مثر نگرانی اور جامع پالیسی کے ذریعے قانونی کاروبار کو تحفظ دے۔بلوچستان پیٹرولیم ایسوسی ایشن نے موقف اختیار کیا کہ صوبے میں پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور آپریشنل اخراجات دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ دور دراز علاقوں میں سپلائی، سیکیورٹی اخراجات، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے نرخ اور جغرافیائی مشکلات کاروباری لاگت کو بڑھا دیتے ہیں، اس لیے کمیشن میں اضافہ ناگزیر ہے۔ایڈیٹر ان چیف سیف الدین نثار نے بھی پیٹرولیم ایسوسی ایشن کی خدمات اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کوششوں کو سراہا۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بلوچستان کا پٹرولیم سیکٹر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس میں شفافیت، استحکام اور ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔ملاقات باہمی تعاون، پالیسی سطح پر بہتری اور بہتر معاشی مستقبل کی امید کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی






