کوئٹہ (روزنامہ آواز ٹائمز)بلوچستان کے 35اضلاع میں سات روزہ انسداد پولیو مہم بروز منگل یکم اگست سے شروع ہوگی جس کے لئے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔۔ان خیالات کا اظہارایمر جنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر سید زائد شاہ نے اپنے ایک بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ سات روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے25 لاکھ99 ہزار سے زائدبچوں کو پولیو سے بچاؤکے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس مہم کے دوران11 ہزار539کے قریب ٹیمیں حصہ لینگی۔جن میں 9ہزار351 موبائل ٹیمیں،978 فکسڈسائٹ او ر614ٹرانزٹ پوائنٹس شامل ہیں۔پولیو کو ہرانے کی جنگ میں والدین، سیاسی حلقوں، علماء کرام او ر انتظامیہ کا کردار نہایت اہم ہے۔ ان کی مثبت سوچ، رویوں اور مدد کی بدولت پولیوکی مہم کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا سمیت پوری دنیا میں اسی ویکسین کے ذریعے پولیو کا خاتمہ یقینی بنایا گیا ہے۔ لہذا بچوں کو ہر مہم میں قطرے پلانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اس سے پولیو وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔ 27جنوری 2021 سے اب تک کوئی پولیو کیس صوبے میں رپورٹ نہیں ہو ا جو ایک کامیابی (Achievement (ہے)آخری کیس جنوری 2021کو ضلع قلعہ عبداللہ میں رپورٹ ہوا تھا اور اپریل 2021سے(environmental sample) میں پولیو وائرس کی موجود گی نہیں پائی گئی ہے. بلوچستان گزشتہ دو سال سے پولیو فری صوبہ ہے پولیو مہم انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ہم نے عزم کررکھا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پورے صوبے سے پولیو کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور پولیو کا خاتمہ کرنے کے لیے انسداد پولیو کی ہر مہم میں پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلانا لازمی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ بچوں کوحفاظتی ٹیکہ جات کا کورس مکمل کرانا بھی لازمی ہے۔ تاکہ بچوں میں پولیو سمیت دیگر خطرناک اور جان لیوا بیماریوں سے بچنے کے لیے قوت مدافعت پیدا ہو۔انھوں نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کو کامیاب اور ہر بچے کو قطرے پلانے کیلئے کمیونٹی ہیلتھ رضاکاروں کی بھی خدمات لی جارہی ہیں جو ان ہائی رسک علاقوں میں کام کرینگے جہاں بچوں تک رسائی مشکل ہے۔ اس عمل کوبہتر بنانے کیلئے علماء کرام، قبائلی رہنماؤں اور معتبرین کی بھی مدد لی جارہی ہے۔ہماری میڈیا، عوام اور ہر شہری سے اپیل ہے کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہمارے بچے مستقل معذوری سے بچ سکیں۔ پولیو لا علاج مرض ہے او ر پولیو ویکسین پلا کر ہی بچوں کو اس سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔






