کوئٹہ(آوازٹائمز)گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آج بھی بی ایس پروگرام تعلیمی اہمیت کے سنگ بنیاد کے طور پر اپنی جگہ قائم ہے جس کیلئے ایک مضبوط بنیادی سٹرکچر، کوالیفائیڈ اکیڈمک اسٹاف، جدید لیبارٹریز، ڈیجیٹل لائبریریز اور دیگر متعلقہ مہارتوں کی اشد ضرورت ہے۔ گورنر بلوچستان کی حیثیت سے میرے لیے یونیورسٹیاں اور کالجز دونوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں اور دونوں ہمارے اہم تعلیمی ادارے ہیں تاہم دو اہم ترجیحات میرے وژن کی رہنمائی کرتی ہیں اول یہ کہ کوالٹی ایجوکیشن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا۔ دوم یہ کہ اسٹوڈنٹس چاہیے یونیورسٹی کے ہوں یا کالجز کے ان سب کو کوالٹی ایجوکیشن فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان سب کے مستقبل کو محفوظ بنانا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے. ان خیالات کا اظہار انہوں پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر عبدالقدوس کاکڑ کی قیادت میں وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ بی ایس پروگرام سے حوالے سے گورنر ہاس اینڈ سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے لیٹر نے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان ایک جاندار اور صحتمند بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ ہم اس وقت متعلقہ تمام سٹیک ہولڈرز کے درمیان جاری تعمیری بات جیت، اکیڈمک ڈائیلاگ اور باہمی مشاورت کے ذریعے مثبت نتائج کی توقع رکھتے ہیں. گورنر مندوخیل نے کہا کہ سردست صوبے کے دور افتادہ تمام اضلاع میں بی ایس پروگرام کی سہولیات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہمیں امید ہے کہ باہمی مشاورت کے بعد بہت جلد ہم ایک اچھے نتیجے پر پہنچیں گے۔ وفد نے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کو اپنے مطالبات اور تحفظات سے آگاہ کیا. گورنر بلوچستان نے ان کے مسائل اور مطالبات کو بہت غور اور توجہ سے سنا اور ان کو اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی






