اسلام آباد(آوازٹائمز)قائم مقام صدر مملکت سید یوسف رضا گیلانی نے تعلیمی سفارت کاری کو بین الاقوامی روابط کا ایک دیرپا اور موثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے تعلیمی شعبہ میں موجود گہرے مسائل کے حل اور نوجوانوں کو تیزی سے بدلتی دنیا کیلئے تیار کرنے کی خاطر پائیدار تعلیمی شراکت داری ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں یونیورسٹی آف لندن کے وفد اور اس کے سابق طلبہ کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ وفد کی موجودگی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان علم، امنگ اور شراکت داری کے ایک مضبوط پل کی علامت ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف لندن کے عالمی مقام اور تقریبا دو صدیوں پر محیط مختلف شعبوں میں انسانی ترقی کیلئے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔قائم مقام صدر نے کہا کہ پاکستان کی کئی نامور شخصیات یونیورسٹی آف لندن کی فارغ التحصیل ہیں جنہوں نے عوامی خدمت، قانون، طب، تدریس، تجارت اور سفارت کاری جیسے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں، یہ مشترکہ تعلیمی ورثہ دوطرفہ تعلیمی تعاون کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور تعلقات کے فروغ کے لئے ایک مضبوط اساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے بین الاقوامی پروگراموں اور تسلیم شدہ تدریسی مراکز نے ہزاروں پاکستانی طلبہ کو ملک چھوڑے بغیر عالمی معیار کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا، اس سے تعلیم کو عام کرنے میں مدد ملی اور نوجوان پاکستانی اپنے وطن میں رہتے ہوئے عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنے۔قائم مقام صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ملک اس وقت تعلیمی ترقی کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، عوام اور اساتذہ کی کوششوں کے باوجود تعلیمی شعبہ اب بھی کئی مسائل کا شکار ہے جن میں سکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد، صنفی تفاوت اور علاقائی عدم مساوات شامل ہیں جو خاص طور پر لڑکیوں اور دیہی علاقوں کو متاثر کرتی ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ انہی چیلنجز کے پیش نظر حکومت نے 2024 میں قومی تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا تاکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط کوششوں کے ذریعے تعلیم تک مساوی رسائی اور تعلیمی معیار میں بہتری لائی جاسکے۔ انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی ڈویلپمنٹ فریم ورک 2024 کو اصلاحات کیلئے ایک جامع روڈ میپ قرار دیتے ہوئے بے نظیر تعلیمی وظائف جیسے اقدامات کا حوالہ دیا جو بچوں کو سکول میں داخلے اور حاضری کی حوصلہ افزائی کیلئے مشروط مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے 2022 کے سیلاب سمیت موسمیاتی آفات کے تعلیمی انفراسٹرکچر پر اثرات کا بھی ذکر کیا اور ریزیلینٹ تعلیمی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔قائم مقام صدر نے کہا کہ بطور وزیر اعظم اور قومی اسمبلی کے سپیکر سمیت اپنے مختلف آئینی عہدوں کے دوران تعلیم ہمیشہ ان کی ترجیحات میں شامل رہی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف سوات جیسے نئے اداروں کے قیام کو اس یقین کی عملی مثال قرار دیا کہ تعلیم ہی تنازعات، انتہاپسندی اور پسماندگی کا سب سے موثر جواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 سے سینیٹ کے چیئرمین اور اس وقت قائم مقام صدر کی حیثیت سے وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم میں سرمایہ کاری کوئی خرچ نہیں بلکہ قومی ترقی کی بنیاد ہے






