ہماری مذہبی اقلیتوں نے جنگوں اور تنازعات، صحت، تعلیم اور زندگی کے دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں،صدر

اسلام آباد(ڈیلی آوازٹائیمز)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ہماری مذہبی اقلیتوں نے جنگوں اور تنازعات، صحت، تعلیم اور زندگی کے دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور آج بھی اپنے دیگر ہم وطنوں کے ساتھ مل کر ملک کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پوری قوم ان کی قومی خدمات، حب الوطنی اور ملک کی جامع ترقی و خوش حالی میں ان کے نمایاں کردار پر فخر کرتی ہے۔ اقلیتوں کے قومی دن پر جوآج11 اگست 2026کومنایاجا رہا ہے قوم کے نام پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اقلیتوں کے قومی دن کے موقع پر میں تمام پاکستانیوں، بالخصوص ہمارے قومی و مذہبی اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کو دلی مبارک باد کا پیغام دیتا ہوں۔آج سے اناسی برس قبل اسی روز بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے اپنا وژن واضح کیا تھا۔صدر نے کہا کہ قائداعظمؒ کے الفاظ آج بھی ہماری ریاست کی روح اور اساس کے حوالے سے ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ ہماری دستور ساز اسمبلی نے تقریباً ایک چوتھائی صدی بعد، 1973ء میں ملک کا پہلا آئین قومی اتفاقِ رائے سے تشکیل دیا، جس میں بانی پاکستان کی جانب سے آج سے 79 برس قبل، قیامِ پاکستان کے باضابطہ اعلان سے محض تین روز قبل کی گئی اس تقریر کے رہنما اصولوں کو مؤثر طور پر شامل کیا گیا۔صدر نے کہا کہ قائداعظمؒ نے فرمایا ”آپ آزاد ہیں؛ آپ آزاد ہیں کہ اپنے مندروں میں جائیں، آپ آزاد ہیں کہ اپنی مساجد میں جائیں یا ریاستِ پاکستان میں کسی بھی دوسری عبادت گاہ میں جائیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو، اس کا ریاست کے امور سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ آغاز کر رہے ہیں کہ ہم سب ایک ریاست کے شہری اور برابر کے شہری ہیں۔”اس وژن کو 1973ء کے آئین میں شامل کیا گیا، جو ہمارے قومی رہنماؤں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں تشکیل دیا۔صدر نے کہا کہ ہماری مذہبی اقلیتوں نے جنگوں اور تنازعات، صحت، تعلیم اور زندگی کے دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور آج بھی اپنے دیگر ہم وطنوں کے ساتھ مل کر ملک کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔پوری قوم ان کی قومی خدمات، حب الوطنی اور ملک کی جامع ترقی و خوش حالی میں ان کے نمایاں کردار پر فخر کرتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک مضبوط، پُرامن اور مستحکم ریاست کی بنیاد صرف معاشی ترقی پر نہیں بلکہ انصاف، مساوات، باہمی احترام اور انسانی وقار کے تحفظ پر قائم ہوتی ہے۔صدر نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی طاقت اس کے عوام میں ہے، جو اپنے مذہبی، ثقافتی اور روایتی اختلافات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک قومی پرچم تلے متحد ہیں۔ میرا یقین ہے کہ مذہب یا عقیدے سے قطع نظر، ہر شہری کو ریاست کے سامنے مساوی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔صدر نے کہا کہ بانی قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ نے مختلف مواقع پر مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ پر زور دیا۔ پاکستان کا آئین بنیادی حقوق، مذہبی آزادی اور قانون کے تحت مساوی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ ان آئینی اصولوں کی پاسداری صرف ریاست کی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ ایک مضبوط اور منصفانہ معاشرے کی تعمیر کے لیے بھی ناگزیر ہے۔صدر نے کہا کہ پاکستان کی اقلیتی برادریوں نے قومی زندگی کے مختلف شعبوں، بشمول تعلیم، صحت، قانون، کاروبار، فنون، کھیل، تحقیق، سماجی خدمات اور ملک کے دفاع میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی کامیابیاں اس امر کا ثبوت ہیں کہ ملک کی ترقی میں ہر پاکستانی کا کردار یکساں طور پر اہم ہے۔صدر نے کہا کہ میں تمام مذہبی رہنماؤں، تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایسے سماجی ماحول کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں جہاں ہر شہری کے عقیدے، شناخت اور انسانی وقار کا احترام کیا جائے۔یہ دن اس عزم کی تجدید کرتا ہے کہ ہم پاکستان کو ایسا ملک بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے جہاں انصاف، مساوات، رواداری اور انسانیت کی خدمت نمایاں اقدار ہوں۔ ہمیں اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہماری آنے والی نسلوں کو ایسا پاکستان ورثے میں ملے جو امن، ترقی، استحکام اور باہمی احترام کے لیے ایک روشن مثال ہو۔صدر نے کہا کہ میں پاکستان کی تمام اقلیتی برادریوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، قوم کی تعمیر میں ان کی خدمات کو سراہتا ہوں اور ان کی خوش حالی، فلاح و بہبود، سلامتی اور مسلسل کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو انصاف، امن اور ہم آہنگی کا گہوارہ بنائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں