رواں سال بلوچستان میں 500سو دہشتگردمارے جا چکے ہیں،وزیرِ اعلی میر سرفراز بگٹی

کوئٹہ (آوازٹائمز)وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے رواں سال بلوچستان میں 500سو سے زائد دہشتگردمارے جا چکے ہیں بلوچستان حکومت کا ڈھائی ڈھائی سالہ معائدہ یہاں کے لیڈروں سے سنا ہے اقتدار آنے جانی چیز ہے پیپلز پارٹی نے اس معایدے کے بارے ذکر نہیں کیا ہے یہ لڑائی ٹیوٹر کے سرداروں کے گھر تک جائے گی دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گابلوچستان پولیس کیلئے 10 ارب روپے کا فنڈ مختص، جدید اسلحہ و ڈرون سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کردیاریاستِ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی پولیس اور فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹرل پولیس آفس میں یادگارِ شہدا پر حاضری اور تعزیت کے موقع پر آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ رواں سال بلوچستان میں 500 پلس دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں اور یہ جنگ ملک دشمن عناصر کے آشیانہ تک پہنچے گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی و وفاقی کوششیں مربوط ہیں اور ریاست اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ ہرگز نہیں کرے گی بلوچستان حکومت کا ڈھائی ڈھائی سالہ معائدہ یہاں کے لیڈروں سے سنا ہے اقتدار آنے جانی چیز ہے پیپلز پارٹی نے اس معایدے کے بارے ذکر نہیں کیا ہے یہ لڑائی ٹیوٹر کے سرداروں کے گھر تک جائے گی دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گابلوچستان پولیس کیلئے 10 ارب روپے کا فنڈ مختص، جدید اسلحہ و ڈرون سسٹم فراہم کرنے کا اعلان کردیاریاستِ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی پولیس اور فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی وزیر اعلی نے کہا کہ حکومت نے بلوچستان پولیس کے لیے دس ارب روپے کا خصوصی فنڈ مختص کیا ہے اور جدید اسلحہ، ڈرون اور رات کی آپریشنل صلاحیت بڑھانے کے لیے ضروری ساز و سامان فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے وفاقی حکومت نے بھی دس ارب روپے کی منظوری دی اور بجٹ مختص کیا گیا ہے تاکہ کمبیٹ یونٹس، انٹیلی جنس اور تعلیمی و تربیتی اداروں میں سرمایہ کاری ہوسکے۔وزیر اعلی نے شہدا کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ایس ایچ او نے بہادری سے مقابلہ کیا اور شہادت کے رتبے کو اپنایا، جس کی شجاعت کے اعتراف میں مرکزی حکومت کو ہائیسٹ ایوارڈ کے لیے سفارش کی جا رہی ہے۔ اسی طرح زخمی ہونے والے افسروں کی فوری نگہداشت اور ہسپتال سے کراچی ایئر لفٹ کے حوالے سے موجودہ طبی مشاورت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ متعلقہ ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق مناسب طبی حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے۔وزیر اعلی نے مزید بتایا کہ پولیس کے بیسک پے کو 2011 کی سطح سے 2023-24 کے معیار کے مطابق بڑھایا گیا ہے اور شہدا کے اہلِ خانہ کے لیے تعلیمی و فلاحی پیکج کو بھی نظر ثانی کر کے بہتر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہیدوں کے بچوں کو اعلی معیارِ تعلیم اور وظائف کے ذریعے مستقبل سنوارنے کے منصوبے ہیں تاکہ بلوچ شہیدوں کے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر یا اعلی تعلیم تک رسائی میسر ہو۔وزیر اعلی نے صوبائی سطح پر پولیسنگ کی اصلاحات، میرٹ پر مبنی بھرتیوں اور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں