سائفر کیس میں شک کا پورا فائدہ ملزمان کو جائیگا،اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی تحریک انصاف عمران خان اور سابق وزیر شاہ محمود قریشی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت آج منگل تک لیے ملتوی کردی ہے جبکہ اس دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ یہ فوجداری مقدمہ ہے، شک کا معمولی سا فائدہ بھی ملزمان کو ہی جائے گا۔ نے استفسار کیا کہ اگر میں کہہ دوں کہ میں سب کچھ بھول چکا ہوں تب کیا ہوگا؟ باقی چیزیں اپنی جگہ یہ بتائیں سائفر اصل میں ہے کیا چیز ؟انھوں نے یہ ریمارکس پیرکے روزدیے ہیں۔ چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اپیلوں پر سماعت کی ، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی جانب سے وکیل سلمان صفدر و دیگر جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) پراسیکیوشن ٹیم میں حامد علی شاہ، ذوالفقار نقوی، نعیم اقبال و دیگر عدالت میں پیش ہوئے، عدالتی حکم پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔کمرہ عدالت میں ملزمان کے خاندانی افراد سمیت پارٹی قیادت اور وکلا کی بڑی تعداد موجود تھی، سائفر کیس میں تعینات اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے اپنے دلائل کا آغاز کیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ نے ٹرائل کورٹ میں کیس سے متعلق تین بیک گراؤنڈ دیے ہیں، حامد علی شاہ نے کہا کہ آج میں دوسرے فرد جرم سے اپنے دلائل کا آغاز کروں گا، ویسے تو بہت کچھ سلمان صفدر نے بتایا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر میں کہہ دوں کہ میں سب کچھ بھول چکا ہوں تب کیا ہوگا؟ باقی چیزیں اپنی جگہ یہ بتائیں سائفر اصل میں ہے کیا چیز ؟ پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ 8 مارچ 2022 کو سائفر بذریعہ ای میل وزارت خارجہ کو موصول ہوا، 7 مارچ 2022 کو سائفر واشنگٹن سے بنایا گیا تھا، سائفر ٹیلی گرام ایک سیکریٹ دستاویز ہے جسے بعد میں ڈی کوڈ کیا گیا۔چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ صرف یہ سائفر خفیہ دستاویز تھا یا وہ تمام سائفر سیکریٹ ہوتے ہیں؟ حامد علی شاہ نے کہا کہ تمام سائفر سیکریٹ ہوتے ہیں اور پھر اس کی گریڈنگ ہوتیں ہے۔اسی کے ساتھ کلاسیفائیدز ڈاکیومنٹس کی بک لیٹ کی کاپی اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی۔عدالت نے دریافت کیا کہ کیا آپ کہتے ہیں کہ یہ کاپی ہر وزارت میں موجود ہوتی ہے؟ حامد علی شاہ نے کہا کہ ویسے تو یہ وفاقی کابینہ کی جاری کردہ ہے مگر کسی بھی وزارت کو آن ڈیمانڈ دیا جاتا ہے.چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں سائفر کا پتہ ہے مگر ایگزیکٹ نہیں پتہ، سلمان صفدر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا جو کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے اسے دور سے دیکھ رہا ہوں، حامد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سر ان کی کاپی ان کے پاس موجود تھی اور جرح کے دوران انہوں نے استعمال بھی کیا۔حامد علی شاہ نے مزید کہا کہ اگر یہ کاپی کسی کے پاس آ جائے تو وہ کوڈ بریک ہو جائے گا، اس کتابچے کے چیپٹر 8 میں سائفر سیکیورٹی کے حوالے سے بتایا گیا ہے۔ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ بہت سے ممالک میں خفیہ معلومات کے لیے ایک سیل بنایا جاتا ہے ، جب کوڈڈ فارم میں ٹیکسٹ بھیجا جاتا ہے تو اسے ان کوڈز سے ڈی کوڈ کیا جاتا ہے ، سادی کاپی کو لفظ بہ لفظ ڈی کوڈ کیا جائے تو اسے ڈی کوڈ کرنے میں آسانی ہوتی ہے ، ہو باہو ترجمے میں معنی برقرار رہتے ہیں مگر ان کو بکھیر کر الفاظ تبدیل کردیے جاتے ہیں۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کوڈڈ سائفر کو وزرات خارجہ کے صرف متعلقہ بندے ہی ڈی کوڈ کرسکتے ہیں؟ کیا ڈی کوڈ ہونے کے بعد والی جو کاپی ہے وہ غائب ہے؟حامد علی شاہ نے بتایا کہ ہر ملک کے ہر وزارتِ خارجہ کے اپنے کوڈز ہوتے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ تو اس کا مطلب ہے آج بھی سافٹ کاپی سسٹم میں پڑی ہوگی؟حامد علی شاہ نے جواب دیا کہ جی آج بھی وہی سافٹ اصلی کاپی سسٹم میں پڑی ہوگی، سائفر ٹیلی گرام کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہ بْک لیٹ بھی خفیہ دستاویز ہے؟ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اس پر لکھا ہوا ہے کہ یہ بْک صرف آفیشل استعمال کے لیے ہے، کلاسیفائیڈ ہے، یہ کتاب ڈپٹی اٹارنی جنرل کے نام پر ایشو ہوئی ہے تاکہ عدالت کے فیصلہ لکھنے تک یہاں موجود رہے، یہ بْک جس شخص کے نام ایشو ہوتی ہے اس نے ہر 6 ماہ بعد بتانا ہوتا ہے کہ اس کے پاس ہی ہے، سائفر جیسے آتا ہے تو بعد میں دونوں طرف سے تباہ کردیا جاتا ہے ،اس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سائفر کی پرنسپل کاپی آج بھی وزرات خارجہ میں موجود ہے؟ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ آج بھی سافٹ کاپی وزرات خارجہ میں موجود ہوگی، سائفر ایک سیکریٹ ڈاکومنٹ ہوتا ہے، اس کی کاپی نہیں کی جاسکتی, سائفر کی کاپی اگر کرنی ہو تو اس کی اجازت لی جاتی ہے.عدالت نے دریافت کیا کہ جو بک لیٹ آپ پڑھ رہے ہیں یہ ٹرائل کورٹ کے سامنے گئی تھی؟ حامد علی شاہ نے بتایا کہ یہ بک لیٹ ٹرائل کورٹ میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا گیا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ یہ دستاویز یعنی بک لیٹ خود بھی اکاونٹبل دستاویز ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ اس بک لیٹ میں لکھا ہے ہم نے بھی وہی کرنا ہے؟ کیا ہم فیصلے میں لکھیں؟ یہ بک لیٹ تو بہت پرانا ہوگا پتا نہیں اس دور میں کیا ضرورت تھی؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس بک لیٹ میں صرف سائفر کی بات نہیں بلکہ بہت سارے دستاویزات کا کہا گیا ہے، چیف جسٹس جکا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں یہاں بہت سارے کیسسز میں آفیشل دستاویزات آتے جاتے ہیں۔بعد ازاں چیف جسٹس عامر فاروق نیا سپریم کورٹ کے جسٹس رمدے ججمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میرا ٹیکس ریٹرن کوئی پبلک ڈاکیومنٹ نہیں ہے، اگر آپ اس کی کاپی ساتھ لے کر گھمائیں تو وہ پبلک ڈاکیومنٹ تو نہیں ہے ناں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اس ڈاکیومنٹ کو ہم ہمارے فیصلے کے لیے ریفر نہیں کرسکتے، جج نے کہا کہ ملزمان نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ جو بک لیٹ سے متعلق وفاقی کابینہ کی ہدایات ہیں، ان کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ آپ نے بتانا ہے کہ کہاں کہاں پر قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے؟ باہر سے جب سائفر آتا ہے تو اسے کلاسیفائیڈ کون کرتا ہے؟حامد علی شاہ نے بتایا کہ سائفر وزرات خارجہ کا متعلقہ سیکشن کلاسیفائیڈ کرتا ہے، جو موضوع آپ کے سامنے پیش کروں گا اس کے متعلق گواہوں پر دلائل بھی ساتھ دوں گا ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یعنی ابھی آپ کا الزام صرف اتنا ہے کہ انہوں نے سائفر کاپی واپس نہیں کی؟جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ پراسیکیوشن کی جانب سے ٹرائل کورٹ میں سزائے موت کی استدعا کی گئی ، سزا کی استدعا کی گئی مگر اس کے مواد عدالت میں پیش نہیں کیے گئے، اس ٹرائل کے پروسیجرل طریقہ کار کی پیروی نہیں کی گئی۔چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آج جو دستاویزات ہمیں دیے گئے اگر ہمارے اسٹاف سے گم ہوجاتا ہے تو ہمارے خلاف ایف آئی آر ہو جائے گی ؟ آج یہ کتابچہ ہم سے واپس لے لیجیے گا آئندہ سماعت پر دوبارہ لے آئیے گا۔عدالت نے مزید کہا کہ یہ تو بہت ہی کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹس ہیں، کیا اعظم خان نے عمران خان کو بتایا تھا؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے تو اس کتابچے کو رٹہ نہیں تو ان کو کیا پتا؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب کاپیاں فراہم کی گئیں تو ان کی واپسی سے متعلق کوئی ہدایات لکھے تھے؟ اوپر لکھنے والا معاملہ نہیں، آپ نے ہمیں بتانا ہے ہمیں نہیں پتا کہ اسٹامپ کہاں لگا ہے؟عدالت نے استفسار کہ کیا اعظم نے ان دونوں کو یہ بات بتایا تھا کہ اس ڈاکومنٹ کی حساسیت کیا ہے ؟ ان دونوں نے اس کو رٹا ہوا تو نہیں ہے ، بعض اوقات آپ کو نہیں پتہ ہوتا آپ نے ان کو کیسے ڈیل کرنا ہوتا ہے۔اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہر کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ کے اوپر لکھا ہوتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اوپر والا تو ہمارے پاس ہے نہیں ، کیونکہ ڈاکومنٹ تو ریکارڈ پر ہے ہی نہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فوجداری کیس ہے شک کا تمام فائدہ اْن کو جائے گا، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریماکرس دیے کہ بالکل کرمنل کیس ہے، شک کا معمولی سا فائدہ بھی ملزمان کو ہی جائے گا۔بعد ازاں عدالت نے سائفر اپیلوں کی مزید سماعت آج منگل تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ 17 اپریل کو اسلام ا?باد ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) عمران خان اور سابق وزر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیل پر سماعت 22 اپریل تک ملتوی کردی تھی، سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق نے دریافت کیا تھا کہ وزارت خارجہ کی جگہ داخلہ نے کیوں شکایت درج کرائی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں