کوئٹہ(ڈیلی آواز ٹائمز/نیوز ڈیسک) نیشنل پارٹی کے سربراہ و سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ سوراب واقعے نے بلوچستان کی صورتحال کی سنگینی واضح کردی ہے، آنے والے دنوں میں مزید کشیدگی کا خدشہ ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور اسے سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سکیورٹی فورسز اور مزاحمت کار ایک دوسرے سے بات کرنے کو تیار نہیں، ایسے میں سیاسی قوتوں کو حالات ٹھنڈے کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سوراب واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے اور خدشہ ہے کہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی مزید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔
انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی اس کی مزاحمت کرے گی، موجودہ حالات میں نئے صوبوں کی بحث ملک کو مزید مشکلات سے دوچار کرسکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً ایسے شوشے چھوڑے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی نے اسلام آباد میں بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے 17 نکات پیش کیے ہیں، جن پر عملدرآمد سے صورتحال میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی میں تبدیلی کے بجائے حقیقی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی بلوچستان میں لگی آگ کو سیاسی طریقے سے ٹھنڈا کرنے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے تیز کرے گی۔ اگر نیت درست ہو اور تمام ذمہ دار حلقے اپنا کردار ادا کریں تو جنگ اور کشیدگی کو کم کیا جاسکتا ہے۔
اس موقع پر میر احمد مری نے اپنے دوستوں، عزیز و اقارب اور 60 خاندانوں سمیت نیشنل پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے نئے شامل ہونے والے افراد کو خوش آمدید کہا اور پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔






