سورینج کوئلہ کان حادثہ، چار کانیں سیل، کورٹ آف انکوائری تشکیل، محکمہ معدنیات کی الگ تحقیقات کا فیصلہ

کوئٹہ(ڈیلی آوازٹائمز)بلوچستان کے علاقے سورینج میں پیش آنے والے المناک کوئلہ کان حادثے کے بعد حکومت اور متعلقہ اداروں نے ذمہ داروں کے تعین اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بڑے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ حادثے کے بعد متاثرہ دو کوئلہ کانوں سمیت مجموعی طور پر چار کوئلہ کانوں کو سیل کر دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دے دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ معدنیات نے بھی محکمانہ سطح پر علیحدہ انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے یو این اے کے مطابق سیل کی جانے والی کوئلہ کانوں میں وہ دو کانیں بھی شامل ہیں جہاں حالیہ حادثہ پیش آیا تھا، جبکہ حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزیوں اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر مزید دو کانوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک ان کانوں میں کسی بھی قسم کی کان کنی کی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات، حفاظتی انتظامات، کانوں کی تکنیکی صورتحال، گیس کی موجودگی، کان کنوں کے لیے حفاظتی اقدامات اور متعلقہ قوانین پر عملدرآمد سمیت تمام پہلوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے باقاعدہ کورٹ آف انکوائری تشکیل دی گئی ہے۔ انکوائری کمیٹی شواہد، ریکارڈ اور متعلقہ افسران و کان مالکان کے بیانات کی روشنی میں اپنی رپورٹ مرتب کرے گی دوسری جانب محکمہ معدنیات بلوچستان نے بھی محکمانہ سطح پر الگ تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ اس امر کا جائزہ لے گا کہ آیا متعلقہ کانوں میں حفاظتی قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کیا جا رہا تھا یا نہیں، معائنہ کرنے والے افسران نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں یا نہیں، اور حادثے سے قبل کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی تو نہیں برتی گئی حکام کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی فرد، ادارے، کان مالک، ٹھیکیدار یا متعلقہ سرکاری اہلکار کی غفلت یا ذمہ داری ثابت ہوئی تو ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے بھی جامع اقدامات کیے جائیں گے یو این اے کے مطابق حکومت بلوچستان کوئلہ کانوں میں حفاظتی نظام کو مزید مثر بنانے، باقاعدہ معائنوں کو یقینی بنانے، جدید حفاظتی آلات کی فراہمی، گیس کی نگرانی کے نظام کو مضبوط کرنے اور کان کنوں کے لیے حفاظتی تربیت کو لازمی قرار دینے جیسے اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے سورینج میں پیش آنے والا یہ افسوسناک حادثہ بلوچستان کی حالیہ تاریخ کے بڑے کان حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس میں متعدد کان کن جاں بحق ہوئے۔ حادثے کے بعد ریسکیو اداروں نے کئی گھنٹوں پر محیط انتہائی دشوار آپریشن کے ذریعے کان میں پھنسے مزدوروں تک رسائی حاصل کی اور لاشوں کو نکالا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر بلوچستان میں کوئلہ کانوں کی حفاظتی صورتحال، نگرانی کے نظام اور کان کنوں کی جانوں کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں حکومتی نے یو این اے کو بتایا ہے کہ کورٹ آف انکوائری اور محکمہ معدنیات کی تحقیقات کی رپورٹس سامنے آنے کے بعد نہ صرف ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی بلکہ کوئلہ کانوں میں حفاظتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے نئی سفارشات بھی مرتب کی جائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں