اسلام آباد(آوازٹائمز)پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدید بارشوں، طوفانی موسم اور ناکافی انسانی رسائی نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔دفتر خارجہ سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ضروری انسانی امداد کی شدید قلت، بنیادی خدمات کی بحالی کے لیے درکار سامان کی سست رفتار آمد اور عارضی رہائش کے انتظامات نہ ہونے کے باعث لاکھوں فلسطینی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ خراب موسم نے غزہ میں موجود انسانی حالات کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے، جہاں قریبا 19 لاکھ بے گھر افراد ناکافی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ سیلاب زدہ کیمپ، تباہ شدہ خیمے، عمارتوں کے ملبے تلے دبنے کے واقعات، سردی اور غذائی قلت نے شہریوں، بالخصوص بچوں، خواتین، بزرگوں اور بیمار افراد کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کے تمام اداروں، خصوصا یو این آر ڈبلیو اے اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں اقوام متحدہ اور عالمی این جی اوز کو بلا تعطل، مستقل اور آزادانہ کام کرنے کی اجازت دے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنا ناقابل قبول ہے۔مشترکہ اعلامیے میں سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع امن منصوبے کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان پر مثر عملدرآمد کے ذریعے جنگ بندی کو پائیدار بنایا جائے، غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہو اور فلسطینی عوام کو باعزت زندگی فراہم کی جا سکے، جو بالآخر فلسطینی خودمختاری اور ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے گا۔وزرائے خارجہ نے فوری طور پر ابتدائی بحالی کے اقدامات شروع کرنے، سخت سردی سے بچا کے لیے باوقار اور پائیدار رہائش کی فراہمی پر زور دیا۔اعلامیے میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اسرائیل پر دبا ڈالے تاکہ بطور قابض طاقت وہ خیموں، پناہ گاہوں کے سامان، طبی امداد، صاف پانی، ایندھن اور صفائی ستھرائی کے سامان کی غزہ میں بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائے۔وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے غزہ میں فوری، مکمل اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی اور رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے کھولنے کے اقدامات کیے جائیں، جیسا کہ صدر ٹرمپ کے منصوبے میں طے ہے






