کوئٹہ(آوازٹائمز)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی شدید مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دستور کو میں نہیں مانتا جو ملک کی جمہوریت کو ووٹ کے بجائے نوٹ اور بوٹ کی محتاج بنائے۔سردار اختر جان مینگل نے مزید کہا کہ ماضی میں آئین کی پامالی کا سہرا اکثر آمروں کے سر سجایا جاتا تھا، مگر آج کل یہ کام سیاسی جانشینوں اور 1973 کے مرحوم آئین کے خالقوں کے لواحقین کے ہاتھوں سرانجام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جمہوریت اور آئینی عمل کا تحفظ ہر سیاسی جماعت اور رہنما کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا ہے کہ سینیٹر نسیمہ احسان قاسم رونجو اب بلوچستان نیشنل پارٹی کی رکن نہیں رہیں۔ ان کی پارٹی رکنیت 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت کرنے پر ختم کر دی گئی ہے۔ سردار اختر مینگل کے مطابق نسیمہ احسان نے قاسم رونجو کے ساتھ مل کر 26ویں ترمیم کی حمایت کی تھی جس کے بعد پارٹی نے ان کے خلاف یہ کارروائی کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے صرف ایک شخص کی سیاست ختم کرنے کے لیے اپنی پوری سیاست اور جدوجہد راکھ بنا دی۔اس وقت عدلیہ اور آئین کا ہونا ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔اس دھوکے کو فورا ختم کریں ورنہ تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی کہ نام نہاد جمہوریوں نے ایک شخص کے خوف میں کیا کچھ کر ڈالا آئیں سب مل کر پاکستان کے آئین کے لیے سور فاتحہ پڑھیں۔ اللہ آپ سب کے ساتھ ہو۔ہیڈ ماسٹر نے آج سینیٹ میں فرمانبردار بچوں کو اٹھک بیٹھک کروانے کی ہدایت دی بھائی، آئین کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے۔






