ملک بھر میں انسداد پولیو آج بروز پیرسے شروع ہوگی

اسلام آباد: ملک بھر میں انسداد پولیو آج بروز پیرسے شروع ہوگی ،پولیو مہم کے دوران مجموعی طور پر 4کروڑ 58لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔وزارت قومی صحت کے مطابق حالیہ سال کی دوسری مہم کے دوران ملک بھر میں 26 فروری سے 3 مارچ تک اور 3 سے 9 مارچ تک خیبرپختونخوا کے 33 اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے 45.8 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلائے جائیں گے جبکہ بچوں کی قوت مدافعت میں اضافہ کیلئے وٹامن اے کی اضافی خوراک بھی دی جائے گی۔وفاقی سیکرٹری صحت افتخار علی شلوانی نے بچوں کو پولیو سے بچا نے کے قطرے پلانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ایک خوفناک بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہے اور یہ وائرس بچوں کو زندگی بھر کیلئے معذور بنا سکتا ہے انہوںنے کہاکہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پولیو وائرس ہمارے بچوں کیلئے بدستور خطرہ ہے کیونکہ کچھ لوگ ویکسین کے بارے میں غلط فہمیوں اور غلط معلومات کی بنیاد پر بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیںوفاقی سیکرٹری صحت افتخار علی شلوانی نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان پولیو کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور اس حوالے سے اہم پیشرفت کررہی ہے جبکہ فیصلہ سازوں اور والدین پر بھی اپنے بچوں کی صحت کو یقینی بنانے کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔وفاقی سیکرٹری صحت نے تمام والدین کو خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ26 فروری سے پولیو ٹیمیں آپ کے دروازے پر آئیں گی، میں التجا کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو پولیو وائرس سے لاحق خطرات کو پہچانیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پولیو ورکرز کیلئے اپنے گھر کا دروازہ کھول کر اپنے بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے لازمی پلوائیں۔رواں سال جنوری میں 20 اضلاع کے سیوریج کے نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کے بعد یہ سال کی مسلسل دوسری ملک گیر پولیو مہم ہے جبکہ 2023 میں سیوریج کے 126 نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا تھا۔ 2024 کی پہلی مہم کا انعقاد 8 جنوری سے 14 جنوری تک کیا گیا تھا جس کے دوران 43 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلائے گئے تھے کوآرڈینیٹر قومی ایمرجنسی آپریشنز سنٹر ڈاکٹر شہزاد بیگ نے کہا کہ پاکستان پولیو پروگرام نے سال 2024 کیلئے ایک جامع اور وسیع پیمانے پر ویکسینیشن اور صحت کی خدمات کی فراہمی کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے جس میں وہ ویکسینیشن سے محروم رہ جانے والے بچوں تک رسائی اور پولیو ویکسین سے انکاری افراد کے اعتماد کے حصول کیلئے ہر طبقے کی شمولیت کو بڑھانے کیلئے کام کرے گاڈاکٹر شہزاد بیگ نے مزید کہا کہ تمام بچوں کی فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم ہر بچے تک ویکسین پہنچانے اور پاکستان سے اس بیماری کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرتے رہیں گے انہوںنے کہاکہ 26 فروری سے شروع ہونے والی پولیو مہم انتہائی اہم ہے کیونکہ جنوری میں متعدد ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ بچوں کو پولیو سے مسلسل خطرہ لاحق ہے ڈاکٹر شہزاد بیگ نے کہا کہ پولیو موقع پرست وائرس ہے جو امتیازی سلوک نہیں کرتا اور کمزور بچوں کو کہیں بھی اپنا شکار بنا سکتا ہے اس لیے والدین یقینی بنائیں کہ ہر مہم کے دوران اپنے بچوں کو لازمی پولیو سے بچا کے قطرے پلوائیں تاکہ وہ محفوظ رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں