مودی کی انتہاپسند اورنفرت انگیز پالیسیوں نے پورے بھارت کو لپیٹ میں لے لیا

نئی دہلی (آوازٹائمز)بی جے پی کے کٹھ پتلی وزیراعظم نریندر مودی کی انتہاپسندانہ اورنفرت پرمبنی پالیسیوں نے پورے بھارت کواپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مودی سرکارکی ناکام پالیسیوں کیباعث منی پور،ناگا لینڈ کے بعد اتراکھنڈ اور ہماچل میں بھی حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ بھارت کا اپنا جریدہ ’دی ہندو‘ مودی سرکارکی نااہلی اوربھارت کیابتر اندرونی حالات سامنے لیآیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اتراکھنڈ کی سرحد پرصورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے، جہاں نہنگ سکھوں نیسرحدی رکاوٹیں توڑکراپنے مقدس مقام ہیم کنڈ صاحب کی طرف مارچ شروع کردیا ہے۔دی ہندو کیمطابق سکھ مظاہرین نے کرن پریاگ واقعے میں گرفتار4 نہنگ سکھوں کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ ہماچل پردیش اوراتراکھنڈ کی سرحد پرحالات اس وقت مزید کشیدہ ہوئے جب نہنگ سکھوں اور پولیس میں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔بھارتی اخبار کے مطابق سکھ سمظاہرین نے دونوں ریاستوں کے سنگم پر واقع کلہال چیک پوسٹ پررکاوٹیں توڑ کر اپنا مارچ آگے بڑھا دیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سکھوں کیخلاف مذہبی پابندیاں اور مودی سرکار کاظالمانہ رویہ بھارتی سکھوں میں احساسِ محرومی اور نفرت کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ بھارت میں روز بروز اٹھنے والے فسادات اور تحریکیں ثابت کرتی ہیں کہ مودی سرکار حالات پر کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔جین زی تحریک سے لے کرسکھوں کے حالیہ احتجاج تک یہ ابھرتی ہوئی نئی لہریں بھارت کے لیے بڑے بحران کا پیش خیمہ ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں