کوئٹہ(ڈیلی آوازٹائمز)نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے رکن بلوچستان اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ سمیت وفد کے ہمراہ گورنمنٹ جنرل محمد موسی پوسٹ گریجویٹ کالج علمدار روڈ مری آباد اور گورنمنٹ گرلز کالج حسن موسی علمدار روڈ مری آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے تعلیمی اداروں کے انتظامی امور، تدریسی ماحول اور طلبہ کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا۔وفد میں نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان علی احمد لانگو، مرکزی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر رمضان ہزارہ، ڈاکٹر نور بلوچ، مشکور انور اور دیگر رہنما بھی شامل تھے۔ اس موقع پر دونوں کالجوں کے پرنسپلز نے اداروں کو درپیش مسائل، بنیادی سہولیات کی کمی، جدید تعلیمی تقاضوں اور اعلی تعلیم کے فروغ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ وفد نے مختلف شعبوں کا معائنہ اور اساتذہ و طلبہ سے بھی ملاقات کی۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور اور خوشحالی کی بنیاد ہے، مگر بدقسمتی سے حکمران طبقے نے اسے کبھی ترجیح نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کو ریاستی پالیسی کا محور نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک معاشرے میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام مثر سیاسی نمائندگی سے محروم ہیں اور عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ ہونے سے جمہوری ادارے کمزور ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں میرٹ کو فوقیت دی گئی، تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کی گئیں اور نئے میڈیکل کالجز و جامعات قائم کیے گئے۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے وسائل عوامی فلاح کے بجائے غلط ترجیحات پر خرچ ہو رہے ہیں، جبکہ عوام بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ انہوں نے پالیسی میں بنیادی تبدیلی، جمہوری بالادستی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور تعلیم پر بھرپور سرمایہ کاری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل پارٹی عوامی حقوق، جمہوریت، معیاری تعلیم اور سماجی انصاف کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح بنائیں اور بلوچستان کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر کالج انتظامیہ نے وفد کو اداروں کے یادگاری میگزین بھی پیش کیے






