نصیرآباد (ڈیلی آوازٹائمز)نصیرآباد میں ایک نوجوان ندیم احمد ابڑو کے مبینہ قتل کے واقعے نے شدید سنسنی پھیلا دی ہے، جسے ابتدائی طور پر گرمی کے باعث دم گھٹنے سے موت قرار دے کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم واقعے کی ہولناک ویڈیو سامنے آنے کے بعد حقائق پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔متاثرہ خاندان اور ذرائع کے مطابق ندیم احمد ابڑو کو چند روز قبل نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا اور درخت سے لٹکا کر بے رحمی سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ملزمان کو اسلحے کے زور پر نوجوان پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ مقتول کے والد امام بخش ابڑو نے اپنے ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ بیٹے کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے، مگر سول ہسپتال کے ڈاکٹروں نے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے موت کی وجہ گرمی قرار دی۔ انہوں نے اعلی حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لینے اور ملزمان کے ساتھ ساتھ غفلت برتنے والے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب، پولیس تھانہ صدر ڈیرہ مراد جمالی میں مقتول کے والد کی مدعیت میں 4 نامزد اور 2 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے معاملے کی قانونی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔






