کوئٹہ(آوازٹائمز /انعام اللہ اچکزئی)وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ٹیوٹر سردار سن لے میں جنگ کا بینیفشری نہیں بلکہ فیکٹری ہوں میرے 280 لوگ شہید ہوئے ہیں ان بیواوں کی کفالت کرتا ہوں کم آمدنی والے میڈیا ورکرز اور شہید صحافیوں کے اہلخانہ کو مفت فلیٹس دینے کا اعلان کر دیاشہیدا کے بچوں کو ہارورڈ اور آکسفورڈ میں پڑھانا ہماری ذمہ داری ہے میرٹ پر سمجھوتہ نہیں کریں ان خیالات کا اظہار کوئٹہ میں میڈیا ہاوسنگ اسکیم کا سنگ بنیاد ر کھنے کی تقریب میں کہی اس موقع پر پارلیمانی لیڈر سلیم کھوسہ،حاجی ولی محمد نورزئی،بخت کاکڑسیکرٹری سی این ڈبلیولال جان،ڈی جی پی آر نور کھتران،کمشنرکوئٹہ ڈپٹی کمشنر بھی موجود تھے میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ٹیوٹر سردار میں جنگ کا بینیفشری نہیں بلکہ فیکٹری ہوں میرے 280 لوگ شہید ہوئے ہیں ان بیواوں کی کفالت کرتا ہوں بینفشری آپ ہے بلوچستان میں مسنگ پرسن کا ہوگا ترقیاتی کام نہیں ہونگے تو اپکی سیاست چمکتی رہے گی بلوچستان میں امن آیگا تو اپ کی سیاست کوخطرہ ہے میری سیاست کو کوئی خطرہ نہیں ہے صوبے میں امن و ترقی کے قیام کے لیے ان کی جدوجہد ذاتی مفادات کے بجائے مظلوم عوام کے حقوق کی جنگ ہے میرے خلاف اگر سوشل میڈیا مہم چلانی ہے تو شوق پورا کر لیں، ہڑتالیں کرنی ہیں تو کر لیں، میں مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوں اور ظالم کے ساتھ نہیں کھڑا ہوسکتا ہاوسنگ سوسائٹی کی تعمیرات کے لیے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ زمین کی لیز اور گروانڈ ورک کا آغاز آج ہی سے کیا جائے انہوں نے کنٹریکٹرز کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر مشینری اور افرادی قوت کو متحرک کریں کم آمدنی والے میڈیا ورکرز اور شہید صحافیوں کے اہلخانہ کو مفت فلیٹس دینے کا اعلان کر دیا کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کے شہید صحافیوں کے خاندانوں کو حکومت مفت فلیٹس فراہم کرے گی اور ان کے بچوں کی اعلی تعلیم، چاہے وہ لارنس کالج ہو، ایچیسن، آکسفورڈ یا ہارورڈ، اس کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان اٹھائے گی۔میڈیا ہاوسنگ اسکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ اسکیم میں دو کیٹیگریز رکھی گئی ہیں۔ تھری بیڈ روم فلیٹس ان دوستوں کے لیے ہیں جو اقساط ادا کر سکتے ہیں، جبکہ ٹو بیڈ روم فلیٹس ان “چھوٹے ورکرز” (کیمرہ مین، اسٹاف) کے لیے ہیں جو زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان عام ورکرز کو قرعہ اندازی کے ذریعے میرٹ کی بنیاد پر بالکل مفت فلیٹس دیے جائیں گے اور یہ حکومت کی طرف سے ان کا حق ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام اور کنٹریکٹرز کو ہدایت کی کہ منصوبے پر آج ہی سے کام شروع کیا جائے اور وعدہ کیا کہ یکم جنوری 2027 تک منصوبہ مکمل کرکے چابیاں صحافیوں کے حوالے کر دی جائیں گی۔اپنے اوپر ہونے والی تنقید اور “ٹویٹر سردار” کے طعنوں کا جواب دیتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ میں جنگ کا بینیفشری (فائدہ اٹھانے والا) نہیں بلکہ ایفیکٹی (متاثرہ فریق) ہوں۔ میں نے اپنے خاندان اور قبیلے کے 280 لوگوں کی لاشیں اٹھائی ہیں اور آج بھی 280 بیواں اور ان کے بچوں کی کفالت کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سوشل میڈیا مہمات کی پرواہ نہیں، میں مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوں اور کسی صورت ظالم کا ساتھ نہیں دوں گا اور نہ ہی اپنے موقف سے پیچھے ہٹوں گا۔وزیر اعلی نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ اس اسکیم کو مجھ پر کوئی احسان نہ سمجھیں بلکہ یہ ان کا حق ہے






