پاکستان اور ایران میں تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد: پاکستان اور ایران نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر اتفاق کرتے ہوئے سکیورٹی تعاون سمیت آٹھ سمجھوتوں پر د ستخط کر دئیے ۔ وزیر اعظم ہائوس میں پاکستان اور ایران کے درمیان 8ایم او یوز پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی ،پاکستان اور ایران کے درمیان سکیورٹی تعاون کے معاہدے کی دونوں فریقین نے توثیق کی، پاکستان اور ایران کے درمیان سول معاملات میں عدالتی معاونت کا معاہدہ بھی طے پاگیا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان ویٹرنری اور جانوروں کی صحت کے شعبے میں تعاون کا معاہدہ بھی طے ہوگیا، خصوصی اقتصادی زون کے قیام سے متعلق مشترکہ تعاون کے سمجھوتے پر بھی دستخط کیے گئے۔ وزارت سمندر پار پاکستان، انسانی وسائل کی ترقی، ایرانی کوآپریٹو، وزارت سوشل ویلفیئر کے درمیان ایم اویوپر دستخط کیے گئے، فلم کے تبادلے کیلئے وزارت اطلاعات اور ایران کی وزارت ثقافت کے درمیان ایم او یو پر دستخط کئے گئے۔ اس کے علاوہ پاکستان اسٹینڈرڈ کنٹرول اتھارٹی،ایران کی نیشنل اسٹینڈرڈآرگنائزیشن کیدرمیان مفاہمتی یاداشت اور باہمی قانونی تعاون کے لیے وزارت قانون و انصاف، ایران کی وزارت قانون میں مفاہمتی یاداشت پردستخط کیے گئے۔بعد ازاں وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدرابراہیم رئیسی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات صدیوں پر محیط ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے ،خوشی کا مقام ہے کہ ایرانی صدر نے پاکستان کا پہلا دورہ کیا ۔ یہ ہمارے لئے باعث اعزاز ہے ۔ آپ کو دیکھ کے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوئی اور دل خواش ہوا ۔ ہمارے ایران کے ساتھ ہمارے دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں، ایرانی صدرکے ساتھ ملاقات میں سکیورٹی اور تجارت سمیت دوطرفہ پہلوؤں پرتبادلہ خیال ہواہے،دونوں ممالک کے درمیان جو باہمی رشتے ہیں مذہب، تہذیب تجارت کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی، اس میں شک نہیں کہ 1947 میں ایران ان چند ممالک میں سر فہرست جس نے پاکستان کو تسلیم کیا، ہمارے رشتے صدیوں پر محیط ہیں، یہ ہے وہ تعلق جس کو آج ہم نے ترقی و خوشحالی اور عوام کی بہتری کے لیے استعمال کرنا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ایران کے لوگ بہت خوبصورت ہیں، آج آپ اسلام آباد لائے ہیں ، آپ بزرگ تہران سے اسلام آباد آئے اور یہ بھی ایک خوبصورت شہر ہے تو یہ خوبصورتی کا ایک حسین مقابلہ پیش کرتا ہے۔ جناب صدر آپ فقہ قانون جیسے موضوعات پر کافی معلومات رکھتے ہیں، آپ کی قیادت میں ایران نے ترقی کی اور یہ موقع ہے کہ پاک ایران تعلقات کو بہتر کریں اور سرحدوں پر ترقی اور خوشحالی کے مینار قائم کریں، ہمیں یہ موقع ملا ہے کہ ہم اس دوستی کو ترقی اور خوشحالی کے سمندر میں بدل دیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج ہم نے جو اقتصادی ترقی کے فیصلے کیے وہ منظر عام پر آجائیں گے، میں آپ کو ستائش پیش کرنا چاہتا ہوں کہ غزہ کے مسلمانوں پر جو پہاڑ توڑے جارہے ہیں تو آپ نے ایک مضبوط مؤقف اپنایا اور پاکستان اس سلسلے میں غزہ کے بھائی بہنوں کے ساتھ ہے، ایسا ظلم پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ 34 ہزار مسلمان شہید کردیئے گئے، بچے شہید کردے گئے اور آج بھی سکیورٹی کونسل کی قرارداد کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور اقوام عالم خاموش ہے تو اسلامی ممالک کو مل کر ہر فورم پر اپنی بھرپور آواز اٹھانی چاہیے تا وقت کہ فلسطین میں جنگ ختم نہیں ہوجاتی۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ اس طرح کشمیر کی وادی ان کے خون سے سرخ ہوچکی ہے، میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے کشمیریوں کے آواز اٹھائی اور مجھے امید ہے کہ کشمیریوں کو ان کے حقوق ملیں گے۔ آخر میں میں آپ کا اور آپ کے وفد کا شکرگزار ہوں کہ آپ اپنے دوسرے گھر کا دورہ فرما رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہمارے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، ایران پاکستان دوستی زندہ باد۔اس موقع پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ غزہ کے عوام سے یکجہتی پر پاکستان کے عوام کو سلام پیش کرتا ہوں ،غزہ کے عوام کی نسل کشی ہورہی ہے۔غزہ کے عوام کو ایک دن انصاف مل جائے گا،سلامتی کونسل غزہ کے معاملے پر ذمہ داریاں ادا نہیں کررہی۔ وزیر اعظم اور حکومت پاکستان کا پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور سب کو سلام کرتا ہوں، پاکستان کی سرزمین ہمارے لئے قابل احترام ہے، فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کاخاتمہ ضروری ہے، غزہ کے عوام کی حمایت پرپاکستان کے عوام کو سلام پیش کرتا ہوں، غزہ کے عوام کی نسل کشی ہورہی ہے، سلامتی کونسل غزہ کے معاملے پر ذمہ داریاں ادا نہیں کررہی، غزہ کے عوام کوایک دن ان کاحق اور انصاف مل جائیگا۔ ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ آج دنیا کے مختلف ممالک میں لوگ تکلیف میں ہیں اور عالمی ادارے بشمول اقوام متحدہ جو انسانی حقوق کی حمایت کا اعلان کرتی ہے نے یہ ثابت کردیا کہ وہ نا اہل ہیں، آج پاکستانی اور ایرانی اور باشعور دوسری قومیں اس آپریشن کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ آج ہمارے برادر ملک پاکستان کے ساتھ تعلقات صرف دو ہمسایہ ممالک کے ناطے تک محدود نہیں ہیں، ہمارے تعلقات تاریخی ہیں، مجھے لگتا ہے کہ ایران اور پاکستان کی قوموں کے درمیان مشترکہ مذہبی رشتہ ہے اور کو کوئی نہیں توڑ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران میں بہت صلاحیت ہیں اور اور دو ملکوں کے درمیان ان ممکنہ صلاحیتوں کا تبادلہ دونوں ملکوں کے فائدے میں ہو گا۔آج کی ملاقات میں ہم نے تجارتی، سیاسی اور ثقافتی ہر سطح پر دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دہشت گردی کے خلاف جنگ، منشیات کے خلاف جنگ سمیت بہت سے مشترکہ مؤقف ہیں جو ہمارے دونوں ممالک کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور میں بہت بہادری سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان علاقائی، دو طرفہ اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کی رسائی انسانی حقوق کے تعاون پر مبنی ہے۔ ایرانی صدر نے کہا ایران اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی حجم قابل قبول نہیں ہے، ہم نے پہلے مرحلے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں