پاکستان میں جنگل کا قانون ہے ، چیف جسٹس اس نظام کے سہولت کار ہیں ، پی ٹی آئی

اسلام آباد:تحریک انصاف نے چیف جسٹس آف پاکستان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ججز خط کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس صاحب بس اپنی جسٹیفیکیشن تلاش کر تے د کھائی دئیے ۔ سپریم کورٹ کی سطح پر کوشش کی گئی کہ ججز خط کے معاملے کو مٹی کے نیچے ڈال کر بھول جائیں۔ چیف جسٹس کا کیا کام ہے کہ وہ ایگزیکٹو کے ساتھ ملاقات کرے۔ وزیراعظم سے مشاورت کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی نے نے اپنے کردار کو مشکوک کر دیا۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات روف حسن نے سابق وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید اور شوکت بسرا ک کے ہمراہ پریس کانفرنس کی ۔ انہوں نے کہا سپریم کورٹ میں ججز خط کے معاملے پر جو سماعت ہوئی اس میں چیف جسٹس صاحب بس اپنی جسٹیفیکیشن تلاش کرتے د کھائی دے رہے ہیں ۔ سپریم کورٹ کی سطح پر کوشش کی گئی کہ اس معاملے کو مٹی کے نیچے ڈال کر بھول جائیں۔ چیف جسٹس کا کیا کام ہے کہ وہ ایگزیکٹو کے ساتھ ملاقات کرے۔ خط سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا گیا تو وزیراعظم سے مشاورت کیوں کی گئی۔ وزیراعظم سے مشاورت کے بعد آپ نے اپنے کردار کو مشکوک کر دیا۔ ان خیالات کا اظہار پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات روف حسن نے سابق وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید اور شوکت بسرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوے کیا ۔ انہوں نے کہا مسئلے بڑھتے چلے جا رہے ہیں سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے ججز کو بھی لفافے مل گئے ہیں۔ بشری بی بی کے حوالے سے ہمارے شکوک و شہبات بھی حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ ان کی سلو پاوزننگ کی جا رہی ہے۔ ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کو گھر سے نکال کر اڈیالہ منتقل کیا جائے۔ ہم نے شوکت خانم کے ڈاکٹرز سے ان کے معائنے کا بھی مطالبہ کیا۔ 5 ہفتے گزر چکے ان کی طبعیت نہیں سنبھل رہی۔ لیکن کسی کو کوئی پرواہ نہیں ۔ انہوں نے کہا بشری بی بی کی جان کو خطرہ ہے۔ ان کے بلڈ سیمپل لیکر چیک کروائے جائیں ۔ ان کو وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جو بحیثیت پاکستانی شہری ان کا حق ہے۔ انہوں نے کہا بانی چئیرمین کے ساتھ بھی پہلے اسی طرح کرنے کی کوشش کی گئی لیکن منہ کی کھانی پڑی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آج بھی ہزاروں لوگ جیلوں میں پڑے ہیں۔ ایک کیس میں ضمانت ملنے پر عدالت کے احاطہ سے دوسرے کیسز میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔۔ عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کو میانوالی جیل منتقل کیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں خواتین کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہوا۔ ان میں انسانیت نام کی چیز نہیں ان کو شرم نہیں آتی۔ میڈیا پر بھی اس طرح کے کیسز کے بارے میں بات نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے کہا اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کو لفافے ملے ۔ آج سپریم کورٹ کے 3 ججز اور لاہور لائی کورٹ کے 4 ججز کو بھی لفافے ملے۔ اس وقت حکومت کو ریشما کی تلاش ہے جو ان کی ہی کسی صف میں بیٹھی ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ عدالتوں کو انڈر پریشر لایا جائے ۔ آج الزام پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر لگا رہے تھے۔ ہم پر تو سپریم کورٹ پر حملے کا الزام نہیں تھا وہ تو ن لیگ پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ بانی چیئرمین نے کل کہا کہ جو جو جج میرے کیس سنتا ہے وہ مجھے اپنی بے بسی کے پیغامات بھیجتا ہے۔ ایسی کونسی طاقتیں ہیں جو ججز کو پریشر میں رکھتی ہیں۔ اس ملک کو کس نے ہائی جیک کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا جب میں عدالتی اجازت کے باوجود جیل میں گیا مجھے نہ ملنے دیا۔ اگر انہوں نے کھیل کھیلنے ہیں تو کھل کر سامنے آئیں۔ کل پاکستان کی 6 سیاسی جماعتوں کا گرینڈ الائنس تشکیل دیا گیا ہے۔ اس پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز عید کے بعد ہوگا۔ اور پہلا جلسہ پشین میں ہوگا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے سابق وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا شہباز شریف اپنی کابینہ میں کہتے ہیں کہ چیف جسٹس نے یقین دلایا ہے کہ وہ ہمیں سپورٹ کریں گے۔ انہوںنے کہا کیا وجہ ہے کہ بار بار کہنے کے باوجود بشری بی بی کا میڈیکل چیک اپ نہیں کیا جا رہا۔ درخواستیں دینے کے باوجود ان کو بنی گالہ سے منتقل نہیں کیا جا رہا۔ بشری بی بی کی طبعیت ٹھیک نہیں اطلاع ہے کہ ان کے کھانے میں کچھ ملایا گیا ہے۔ بشری بی بی کو جیل میں صرف بانی چئیرمین کو اذیت دینے کے لیے رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا معاشرہ مرتا تب ہے جب آپ صحیح اور غلط کی پہچان ختم کر دیں۔ عدت کا کیس ہم نے انسانی تاریخ میں نہیں دیکھا ۔ ہم اس قدر بے شرم ہوچکے کہ بانی چئیرمین کو توڑنے کے لیے ہم نے عدت کا کیس بنایا۔ رہنما پی ٹی آئی شوکت بسرا نے کہا کل میں بانی چیئرمین سے اڈیالہ جیل میں ملا۔ بشری بی بی کے حوالے سے بانی چیئرمین کے شدید خدشات ہیں۔ بشری بی بی کے فی الفور میڈیکل کی درخواست متعلقہ جج کو بھی دی گئی ہے۔ پاکستان میں جنگل کا قانون ہے چیف جسٹس اس نظام کے سہولت کار ہیں۔ قاضی فائز عیسی کا آج بھی عدالت میں رویہ ججز کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے ایگزیکٹو کے ساتھ کھڑا ہونے جیسا تھا۔ یہ پاکستان کے نمائندے نہیں بلکہ فارم 47 کی پیداوار ہیں۔ ان کو انٹرنیشنل ایجنڈے کے تحت لایا گیا تاکہ سی پیک کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا آج بھی بانی چیئرمین کے چاہنے والوں کے خلاف کاروائیاں ہو رہی ہیں۔ خواتین سے سیٹیں صرف قاضی فائز عیسٰی کے فیصلے کی وجہ سے چھینی گئیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں