پاکستان میں پبلک پروکیورمنٹ کے عمل میں انقلابی اصلاحات کی منظوری،

اسلام آباد (آوازٹائمز) وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان میں پبلک پروکیورمنٹ کے نظام میں جامع اصلاحات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت نے اداروں کے اندرون و بیرون اصلاحات کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ سرکاری خریداری کے عمل کو شفاف، موثر اور مکمل طور پر آزاد بنایا جا سکے۔پاکستان کی معیشت میں پبلک پروکیورمنٹ کا بڑا کردار ہے اور ان اصلاحات کا مقصد مختلف حکومتی اداروں کی ورکنگ میتھڈز کو یکجا کرنا ہے۔ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر مختلف اداروں نے پروکیورمنٹ کے عمل میں تبدیلیاں لائی ہیں اور ریگولیٹری فریم ورک میں بھی بہتری کی گئی ہے۔پیپرا کے مینیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران پیپرا کے اصلاحاتی عمل اور ای پیڈ سسٹم میں ہونے والی اہم پیش رفتوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پیپرا کے 2004 کے رولز میں ترمیم کی گئی ہے اور ایک نئے ترمیمی آرڈیننس پر بھی کام جاری ہے، جس سے پروکیورمنٹ کے عمل کو مزید شفاف اور موثر بنایا جائے گا۔حسنات قریشی نے کہا کہ پیپرا نے ایک خصوصی پلان تیار کیا ہے، جس کے تحت پروکیورمنٹ ایکسپرٹس کا ایک خصوصی پول بنایا جا رہا ہے تاکہ پروکیورمنٹ پروسیس میں درپیش سب سے بڑی مشکل، یعنی کیپسٹی بلڈنگ، کا حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک 10 ہزار افراد کو پروکیورمنٹ مینجمنٹ کی خصوصی تربیت دی جا چکی ہے۔ای پیڈ سسٹم کے حوالے سے حسنات قریشی نے کہا کہ اس نظام کے تحت اب تک 5 لاکھ سے زائد ٹرانزیکشنز کی جا چکی ہیں، جس سے نہ صرف اربوں روپے کی بچت ہوئی ہے بلکہ مسابقت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ای پیڈ سسٹم کی وجہ سے بولی کے عمل میں دھاندلی اور ملی بھگت میں کمی آئی ہے، اور 5 سے 7 بولی دہندگان کی شرکت ممکن ہوئی ہے۔حسنات قریشی نے مزید کہا کہ ای پیڈ سسٹم ورڑن 2.0 جنوری 2026 میں لانچ کیا جائے گا، جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں فروری 2026 سے اس کا نفاذ کیا جائے گا۔ صوبوں میں ای پیڈ سسٹم کا رول آؤٹ مارچ 2026 سے شروع ہو گا، اور جولائی 2026 تک مانیٹرنگ اور اینالیٹیکل رپورٹنگ کا آغاز ہو جائے گا۔انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ 2026 کے آخر تک تمام فنڈڈ پروکیورمنٹ ای پیڈ کے ذریعے کی جائیں گی، جس سے پاکستان کے پبلک پروکیورمنٹ کے نظام میں ایک نیا انقلاب آئے گا۔وزیرِ اعظم کی ہدایت پر پیپرا کی اس اصلاحاتی کوشش سے نہ صرف پروکیورمنٹ کے عمل میں شفافیت آئے گی بلکہ حکومتی خزانے کی بچت بھی ہو گی، اور ملک کی معیشت میں استحکام لایا جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں