چترال میں سیاحت کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

اسلام آباد(آوازٹائمز) ایوان بالا کو وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا ہے کہ چترال میں سیاحت کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ تربت سے فلائٹس کے اضافے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔جمعہ کو سینیٹ اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں پی پی کے سینیٹر طلحہ محمود نے کہاکہ چترال میں سیاحت اس وقت تک فروغ نہیں پاسکتی ہے جب تک وہاں پر بنیادی سہولیات فراہم نہ کی جائیں انہوں نے کہاکہ چترال میں نہ تو انٹرنیٹ سسٹم ہے اور نہ ہی سڑکوں کا نظام بہتر ہے جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ حکومت چترال میں سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے تاہم 18ویں ترمیم کے بعد سیاحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوگیاتھا جس کیوجہ سے اب یہ صوبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ چترال میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائیں سینیٹر جان محمد نے کہاکہ تربت سے فلائٹ سروس کینسل کردی گئی ہیں اور اب صرف دو فلائٹیں ہفتے میں چلتی ہیں اس کی کیا وجوہات ہیں جس پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ تربت مکران ڈویڑن کے علاقے میں ہے اور وہاں سے فلائیٹس اپریٹس ہوتی تھی مگر وہاں پر اب ٹریولنگ لوڈ کے مطابق فلائیٹس چلتی ہیں اور اگر مذید ضرورت پڑی تو فلائٹس بڑھا دی جائیں گے سینیٹر جان محمد نے کہاکہ وفاقی وزیر نے درست جواب نہیں دیا ہے وہاں پر مسافر موجود ہیں مگر پی آئی اے کے پاس جہاز نہیں ہیں جس پر وفاقی وزیر نے کہاکہ جو فلائٹس چلتی ہیں یہ سب کمرشل فلائٹس ہیں اور کوئی بھی ائیر لائن مسافروں کی موجودگی پر فلائٹس چلاتی ہیں انہوں نے کہاکہ بلوچستان سے پی آئی اے کے علاوہ دیگر ائیر لائنز بھی چلتی ہیں اس حوالے سے تحریری طور پر ایوی ایشن ڈویڑن کو اگاہ کیا جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں