چیئرمین پی اے سی نے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی

کوئٹہ(آوازٹائمز)بلوچستان اسمبلی میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی صدارت میں کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی ارکان، سیکرٹری اسمبلی، سیکرٹری آبپاشی، اکانٹنٹ جنرل، آڈٹ کے اعلی افسران اور متعلقہ محکموں کے اعلی حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ آبپاشی کی نہروں کی تعمیر و دیکھ بھال، ڈیلے ایکشن ڈیمز، آبی ذخائر، پینے اور زرعی پانی کے ذرائع، واٹر لاگنگ اور فلڈ کنٹرول اسکیموں پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود واجبات کی ریکوری نہیں کی گئی، جبکہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2020-22 میں محکمے کی مختلف ڈویژنز نے ناقابل قبول آئٹمز اور بلند ریٹس پر 68.327 ملین روپے کے اخراجات کیے، جس سے خزانے کو نقصان پہنچا۔اجلاس میں گروک اسٹوریج ڈیم کی غیر مثر تکمیل اور پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی غیر قانونی تعیناتی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے نہر آبپاشی ڈویژن حب کی ریکوری میں ناکامی پر عدم اطمینان ظاہر کیا اور اے جی بلوچستان کو وضاحت کے لیے طلب کیا۔پی اے سی نے ہدایت کی کہ پانی کی پیمائش، فراہمی کے مثر نظام، بقایاجات کی ریکوری اور نرخوں کی نظرثانی فوری طور پر کی جائے۔ چیئرمین نے واضح کیا کہ مسلسل غفلت، حقائق کی غلط بیانی اور ناکامی ناقابل قبول ہے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ مالی اور انتظامی امور درست کیے جائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں