اسلام آباد:سپریم کورٹ میں چترال میں اراضی تنازعہ کیس میں چیف جسٹس قاضی فائزعیسیی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ مفروضوں پر کیس نہیں چلا سکتے،پارٹیشن کے بجائے آزادی کے بعد کے الفاظ استعمال کریں،پارٹیشن کے الفاظ ہندوستان والے کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ کبھی حکمران نہیں رہے،ہمیں فخر سے آزادی حاصل کرنے کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے،انھوں نے یہ ریمارکس منگل کے روزدیے ہیں ،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی اس دوران چیف جسٹس پاکستان کا درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ مفروضوں پر کیس نہیں چلا سکتے، کوئی ثبوت ہیں تو دکھا دیں، اس پر دوران سماعت وکیل درخواست گزار کا پارٹیشن کے الفاظ پر چیف جسٹس کے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پارٹیشن کے بجائے آزادی کے بعد کے الفاظ استعمال کریں،پارٹیشن کے الفاظ ہندوستان والے کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ کبھی حکمران نہیں رہے، ہمیں فخر سے آزادی حاصل کرنے کے الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے، بعدازاں عدالت نے درخواست مسترد کردی،واضح رہے کہ اس سے قبل درخواست گزار سول کورٹ اور ہائی کورٹ میں بھی جائیداد کی ملکیت ثابت کرنے میں ناکام رہا۔






