اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ جناب احسن اقبال نے کہا ہے کہ درپیش مشکلات کے حل کیلئے نجی شعبہ کے باصلاحیت افراد کی خدمات سے استفادہ کیا جائے گا انہوں نے کہاکہ وزارت کے افسران کی کارکردگی کو بڑھانے کیلئے بھی حکمت عملی وضع کی جائے گی۔بدھ کے روز وفاقی وزیر کی زیر صدارت منصوبہ بندی کمیشن اصلاحات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں سیکریٹری وزارت منصوبہ بندی، ممبران پلاننگ کمیشن اور حکام نے شرکت کی اس موقع پر سیکریٹری منصوبہ بندی اویس منظور سمرا کی جانب سے منصوبہ بندی کمیشن اصلاحات پر بریفنگ دی گئی اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے عہدہ براہ ہونے کے لئے معاشی و ترقیاتی ترجیحات کا درست تعین منصوبہ بندی کمیشن کی اہم ترین ذمہ داری ہے انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان کا ویڑن ہے کہ قومی اداروں میں بہترین دماغوں اور باصلاحیت افراد کار کو لا کر ملکی اداروں کی استعداد کار میں بہتری لائی جائے انہوں نے کہاکہ پلاننگ کمیشن میں باصلاحیت افراد کو لانے کے لئے مروجہ طریقہ کار کی پیچیدگیاں ختم کرکے نیا اور بہتر میکنزم تشکیل دیا جائے انہوں نے کہاکہ وزارت منصوبہ بندی اور منصوبہ بندی کمیشن میں افسران کی استعداد کار میں بہتری لانے کے لئے حکمت عملی وضع کی جائے اور صوبوں سمیت دیگر وزارتوں سے ترقیاتی منصوبوں کے پی سی ون کے جائزہ کے لئے ماہرین کی شراکت کا دائرہ بڑھانے کے لئے میکنزم طئے کیا جائے انہوں نے کہاکہ موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے نجی شعبے، اوورسیز، اکیڈیمیا اور انڈسٹری سے پروفیشنلز اور ماہرین کو سرکاری شعبے میں لانے کے لئے حکمت عملی وضع کی جائے انہوں نے کہاکہ وقت کم ہے اور چیلنجز بے شمار، ہمیں نظام کی پیچیدگیاں بدل کر اپنے ڈھانچے کو فعال بنانے کی ضرورت ہے، اس حوالے سے سفارشات مرتب کر کے جلد پیش کی جائیں اس موقع پروفاقی وزیر نے ممبران منصوبہ بندی کمیشن کو ہدایت پلاننگ کمیشن میں موجود افراد کار، ماہرین اور افسران کی کارکردگی جانچنے کے لئے ٹھوس پیمانے کے پی آئیز وضع کر کے پیش کئے جائیں انہوں نے کہاکہ تمام ممبران اور کمیشن میں موجود ماہرین کی کارکردگی رپورٹ سہ ماہی بنیادوں پر مرتب کی جائے انہوںنے کہاکہ پلاننگ کمیشن کو تمام اداروں کے لئے رول ماڈل کا کردار ادا کرنا ہے اس کے لئے مثالی کارکردگی دکھانا ضروری ہے وفاقی وزیر بہترین صلاحیتوں اور تجربہ کے حامل افراد کی ترقیاتی عمل کی منصوبہ بندی میں شراکت ناگزیر ہے انہوں نے کہاکہ سرکاری و نجی شعبے، اکیڈیمیما، انڈسٹری کی شراکت سے مختلف شعبوں سے ماہرین اور تجربہ کار افراد پر مشتمل اعلی سطحی پالیسی بورڈ تشکیل دیا جائے انہوں نے منصوبہ بندی ا ور پلاننگ کمیشن کے ممبران کو ہدایت کی کہ اس پالیسی بورڈ کے تنظیمی ڈھانچے، دائرہ کار کی تفصیلات طے کر کے جلد از جلد سفارشات پیش کریں۔






