پاک افغان امن معاہدہ خطے کے استحکام کی جانب تاریخی پیش رفت قرار

کوئٹہ(آواز ٹائمز)آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے صدر حاجی حبیب اللہ خان بادیزئی، سیکریٹری جنرل حاجی میر اکبر لہڑی، اور دیگر عہدیداران حاجی موسی جان اچکزئی، ولی خان اچکزئی، نصراللہ دہوار، حاجی علی محمد اور حاجی ابراہیم نے پاک افغان امن معاہدے اور جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے استحکام اور خوشحالی کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے۔ٹرانسپورٹر رہنماں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان دو برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے عوام کے درمیان صدیوں پرانے مذہبی، ثقافتی، تاریخی اور خاندانی رشتے قائم ہیں۔ امن معاہدے سے دونوں ملکوں کے عوام میں اطمینان اور امید کی نئی فضا پیدا ہوئی ہے، جو مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ امن اور باہمی تعاون ہی دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی کی ضمانت ہے، اور ضروری ہے کہ اعلی سطحی مذاکرات و رابطوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے۔ٹرانسپورٹرز رہنماں نے اس موقع پر حکومت پاکستان اور حکومت افغانستان سے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین پر کھڑے پاکستانی ٹرکوں کو فی الفور واپسی کی اجازت دی جائے تاکہ افغان مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کا عمل باعزت اور منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہزاروں پاکستانی ٹرک افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں واپسی کی اجازت نہ ملنے سے ٹرانسپورٹرز کو بھاری مالی نقصان اور افغان مہاجرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان گاڑیوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جائے تو یہی ٹرک دوبارہ افغان مہاجرین کو ان کے وطن واپس پہنچانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ موجودہ صورتحال میں مہاجرین لاکھوں روپے کرایہ دینے کے باوجود مناسب گاڑیاں حاصل نہیں کر پا رہے، جس سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے رہنماں نے آخر میں دونوں ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی کہ باہمی تعاون کے ذریعے ٹرانسپورٹرز کے مسائل فوری حل کیے جائیں، سرحدی تجارت میں آسانیاں پیدا کی جائیں اور مہاجرین کے انخلا کے عمل کو باعزت و پرامن طریقے سے مکمل کیا جائے تاکہ خطے میں حقیقی امن و استحکام قائم ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں