پاک افغانستان سرحدکی بندش سے دوطرفہ تجارتی نقصان ہو گا تاہم پاکستان مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہے،پاورلومزایسوسی ایشن

جڑانوالہ (آوازٹائمز)سینٹرل چیئر مین آل پاکستان کاٹن پاور لومز ایسوسی ایشن چوہدری خالد محمود چیمہ،سینئر وائس چیئر مین شیخ خالد عزیز مخی،وائس چیئر مین شیخ عامر نثار،سابق چیئر مین چوہدری محمد نواز،سر پرست اعلیٰ جاوید صادق کاہلوں نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان سرحدکی بندش سے دوطرفہ تجارتی نقصان ہو گا تاہم پاکستان اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے افغانستان شدید متاثرہو گا۔یہاں ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں گزشتہ دو برس کے دوران نمایاں اتارچڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔2023کے دوران پاکستان کی افغانستان کوبرآمد ات 96 کروڑ90لاکھ ڈالررہیں جبکہ 2024 میں یہ حجم بڑھ کر ایک ارب 14 کروڑڈالرتک پہنچ گیا۔ پاکستان کی برآمدات میں زیادہ ترخوراک،ادویات، ٹیکسٹائل مصنوعات اورتعمیراتی سامان شامل تھا۔ دوسری جانب افغانستان سے پاکستان کی درآمدات 2023 میں 88 کروڑ ڈالر تھیں جو 2024 میں کم ہو کر 56 کروڑ 60 لاکھ ڈالررہ گئیں۔ درآمدی اشیا میں بنیادی طورپرکوئلہ،معدنیات، خشک میوہ جات اورکھالیں شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تقریبا 2 ارب ڈالرسالانہ کی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی منظم کررہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک رپورٹ کیمطابق دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ تجارت کے ساتھ ساتھ غیررسمی تجارت بھی انتہائی مضبوط ہے، جس کے تحت پاکستان سے مزید 2 سے 3 ارب ڈالر مالیت کی اشیا افغانستان بھجوائی جاتی ہیں جبکہ افغانستان سے 1 سے 2 ارب ڈالرکی اضافی درآمدات ہوتی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں