پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپ، بابِ دوستی کو نقصان، چار افغان شہری ہلاک

چمن(آوازٹائمز/انعام اللہ اچکزئی)پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد چمن اور سپین بولدک بارڈر پر ایک بار پھر شدید فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا جس سے دونوں جانب کشیدگی پیدا ہوگئی۔ رات گئے تین بجے تک جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔افغانستان کی طالبان فورسز کی جانب سے بابِ دوستی پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں چار افغان شہری ہلاک ہوئے جن میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہے جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔ قندھار کے ڈاکٹروں نے ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔طالبان کی فائرنگ سے بابِ دوستی گیٹ کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ جوابی کارروائی میں پاک فوج نے افغان طالبان کی متعدد چیک پوسٹیں تباہ کر دیں اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ جھڑپوں میں چار پاکستانی شہری زخمی ہوئے جنہیں چمن ہسپتال منتقل کردیا گیا۔کشیدگی کے باعث ہزاروں افغان مہاجرین کا انخلا رک گیا جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔ پاک فوج نے مہاجرین کو چمن ماسٹر پلان میں منتقل کردیا۔چمن اور کوئٹہ کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جبکہ میڈیکل عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی پانچ ایمبولینسز اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر بارڈر پہنچ گئیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق سرحدی علاقے کو مکمل طور پر خالی کروا لیا گیا ہے پاک افغان باڈر پر مزید سیکورٹی جوانوں کو تعینات کر دیا اور صورتحال پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے1280

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں