چھتر (آوازٹائمز)مس شبنم عمرانی نے ایک ہنگامی پریس بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ والد مرحوم کی وفات کے بعد ان کی جائز اور قانونی وراثت پر ناجائز قبضہ کرنے کی منظم اور بااثر کوششیں کی جا رہی ہیں، جو نہ صرف قانون بلکہ معاشرتی اقدار کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین زبردستی زمین پر قابض ہونے کے لیے مسلسل دبا ڈال رہے ہیں اور خوف و ہراس پھیلانے کے تمام حربے استعمال کیے جا رہے ہیں مس شبنم عمرانی کے مطابق مخالفین آئے روز ان کے گھروں کے اطراف ہوائی فائرنگ کرتے ہیں جس سے خواتین، بچوں اور بزرگوں میں شدید خوف پایا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خاندان کے بزرگوں کو براہِ راست دھمکیاں دی جا رہی ہیں تاکہ وہ اپنے جائز حق سے دستبردار ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال کسی بڑے سانحے کو جنم دے سکتی ہے، مگر اس کے باوجود متعلقہ تھانے کی پولیس مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے انہوں نے مزید کہا کہ متعدد بار تحریری اور زبانی شکایات کے باوجود نصیرآباد پولیس نے نہ تو فائرنگ کے واقعات کا مقدمہ درج کیا اور نہ ہی ملزمان کے خلاف کوئی مثر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھ رہے ہیں، جس سے علاقے میں بدامنی اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو چکی ہے مس شبنم عمرانی نے واضح کیا کہ جن افراد پر قبضے کا الزام ہے، ان کا ان کے والد مرحوم کی وراثت میں کسی قسم کا کوئی قانونی، شرعی یا اخلاقی حق نہیں بنتا، اس کے باوجود طاقت کے زور پر زمین ہتھیانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالفین کی جانب سے مسلسل رکاوٹوں اور دھمکیوں کے باعث ان کی زرعی اراضی طویل عرصے سے غیر آباد اور بنجر پڑی ہوئی ہے، جس سے خاندان کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے انہوں نے کہا کہ زمین کی کاشت نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف ان کا ذریعہ معاش متاثر ہو رہا ہے بلکہ پورا خاندان ذہنی اذیت اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اگر بروقت قانونی کارروائی نہ کی گئی تو حالات مزید سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں مس شبنم عمرانی نے وزیراعلی بلوچستان، آئی جی پولیس بلوچستان، ڈی آئی جی نصیرآباد رینج اور دیگر اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں، غیرقانونی قبضہ ختم کرایا جائے اور ان کے خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ قانونی اور آئینی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گی آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ انصاف پر یقین رکھتی ہیں اور امید کرتی ہیں کہ ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے مظلوم خاندان کو انصاف دلائیں گے اور علاقے میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے گا
اہم خبریں
🇵🇰 14 اگست — یومِ آزادی مبارک 🇵🇰
کوئٹہ، سینٹرل پولیس آفس میں 79ویں یومِ آزادی پر پرچم کشائی کی تقریب، پرچم کشائی آئی جی بلوچستان محمد طاہر نے کی
حب، ایس، ایچ، او سٹی کے روئیے کیخلاف وکلا کا پولیس کے داخلے پر پابندی
حب، ایس، ایچ، او حب سٹی کا ناروا سلوک اور نامناسب رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں، وکلاء برادری
امن، عوام کا تحفظ اور قانون کی بالادستی پولیس کا عزم ہے، ایس پی خلیل اللہ کاکڑ
بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق خان اچکزئی کےصاحبزادے ثناء اللہ خان اچکزئی کا نماز جنازہ آج ہوگی
ثناءاللہ خان اچکزئی انتقال کرگئے، انَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ہماری تنظیمی وابستگی، اتحاد اور جدوجہد کی علامت ہے، مولانا عبدالرشید سمالانی
حب، سیوریج لائن پر نصب ڈھکن ٹوٹ پھوٹ کا شکار، شہریوںکو شدید مشکلات کا سامنا
گلشن لسبیلہ حب کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے، چیئرمین گل حسن محمد حسنی






