کوئٹہ(آوازٹائمز)اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق خان اچکزئی نے بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی جانب سے ایک خاتون ڈاکٹر کا حجاب زبردستی ہٹانے کے شرمناک واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی خاتون کے لباس، حجاب اور ذاتی وقار میں مداخلت نہ صرف انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی آزادی اور خواتین کے وقار پر کھلا حملہ ہے۔ اسپیکر نے اس عمل کو طاقت کے غلط استعمال، مسلمانوں کی توہین اور خواتین کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کسی مہذب معاشرے میں ناقابلِ قبول ہیں۔عبدالخالق خان اچکزئی نے واضح کیا کہ ریاستی عہدہ کسی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ خواتین کی عزت یا مذہبی شناخت کو مجروح کرے۔ انہوں نے کہا کہ کسی خاتون کے حجاب کو زبردستی ہٹانا بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے عالمی منشور اور مذہبی آزادی سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز کی بھی خلاف ورزی ہے۔اسپیکر نے اس واقعے کو بھارت میں مسلمانوں خصوصا مسلم خواتین کے خلاف انتقامی ذہنیت اور تعصب کی عکاسی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ذمہ داروں سے غیر مشروط معافی لی جائے اور فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اسمبلی ہر فورم پر خواتین کے وقار، مذہبی آزادی اور انسانی احترام کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی اور ایسے رویوں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ اس واقعے نے عالمی سطح پر بھارت کے جمہوری دعووں کو بھی بے نقاب کیا ہے، کیونکہ ریاستی سربراہ خود اقلیتوں کی مذہبی شناخت پر حملہ کرے تو یہ تعصب اور امتیازی سلوک کی واضح دلیل بنتا ہے۔






