اڈیالہ جیل: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے پر رہنماؤں کی شدید تنقید، حکومت اور عدلیہ پر سوالات

راولپنڈی (آوازٹائمز) بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل آنے والے پارٹی رہنماؤں کو ایک بار پھر ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، جس پر رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو میں شدید تحفظات کا اظہار کیا۔سابق صوبائی وزیر خیبرپختونخوا کامران خان بنگش نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جن رہنماؤں کے نام ملاقات کی فہرست میں شامل تھے وہ تمام اڈیالہ جیل پہنچے، دوپہر دو بجے گیٹ پر پہنچ کر نام درج کروائے گئے، تاہم اس کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، سردیوں کے کپڑے تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور ہیومن رائٹس رپورٹس کے مطابق بانی کی اہلیہ کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے۔ کامران بنگش نے کہا کہ یہ ظلم اور زیادتی ایک دن ضرور ختم ہوگی، پی ٹی آئی آئین اور قانون کا دامن نہیں چھوڑے گی، تاہم عدلیہ کی بے بسی سب کے سامنے ہے اور آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ فواد چودھری اور اسد عمر پارٹی کے لیے قابلِ احترام ہیں، تاہم وہ پارٹی چھوڑ چکے ہیں اور ان سمیت دیگر افراد کی واپسی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی ہی کریں گے۔اس موقع پر رکن قومی اسمبلی ساجد خان مہمند نے کہا کہ وہ بڑی امید کے ساتھ ملاقات کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے بننے والے وزیراعظم نے مذاکرات کی دعوت دی ہے لیکن پی ٹی آئی اس حکومت کو ناجائز سمجھتی ہے اور اس کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی کو دیا ہوا ہے اور گزشتہ روز ان کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی کے اظہار کے بعد امید تھی کہ ملاقات ہوگی اور کوئی مثبت پیغام سامنے آئے گا، تاہم ایسا نہ ہو سکا۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف سے ٹولیوں کی صورت میں ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ ساجد خان مہمند نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے پی آئی اے کو کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کیا اور اس حکومت کے پاس کوئی حقیقی اختیار نہیں۔رکن صوبائی اسمبلی پنجاب فیصل خان نیازی نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف میں کسی قسم کی تقسیم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ علیمہ خان جن افراد کا ذکر کر رہی ہیں ان کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں، اور غیر متعلقہ افراد اگر مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو وہ پارٹی کی نمائندگی نہیں کرتے۔فیصل خان نیازی نے کہا کہ جو بھی مذاکرات ہوں گے وہ صرف **تحریک تحفظ آئین** کے پلیٹ فارم سے ہوں گے اور پارٹی اپنے مؤقف پر متحد ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں