او آئی سی وزرائے خارجہ کا مشترکہ اعلامیہ: اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ مسترد

اسلام آباد (آوازٹائمز)اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کی جانب سے 26 دسمبر 2025 کو صومالیہ کے خطے ”صومالی لینڈ“ کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام افریقہ کے ہارن اور بحیرہ احمر کے خطے میں امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے۔مشترکہ اعلامیہ اردن، مصر، الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، ایران، عراق، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائجیریا، عمان، پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکیہ، یمن اور اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے جاری کیا گیا۔او آئی سی وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیلی اقدام بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اعلامیے میں زور دیا گیا کہ ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا تحفظ اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔اعلامیے کے مطابق وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے، جبکہ صومالیہ کی سرحدوں یا اس کے کسی حصے کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا ہے۔ وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ کسی ریاست کے حصے کو تسلیم کرنا عالمی سطح پر ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتا ہے، جو عالمی امن و سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق او آئی سی نے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی شدید مذمت کی ہے اور اس پر بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اعلامیے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام کو زبردستی ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کی مکمل مخالفت کی جاتی ہے۔مشترکہ اعلامیے میں صومالی لینڈ سے متعلق اسرائیلی اقدام کو فلسطینی مسئلے سے جوڑنے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فلسطینی مسئلے پر او آئی سی کا اصولی موقف برقرار ہے اور فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں