دہلی میدانِ جنگ بن گیا: امتحانی بے ضابطگیوں پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا پارلیمنٹ مارچ، شدید شیلنگ اور لاٹھی چارج

نئی دہلی(ڈیلی آوازٹائمز) بھارت میں امتحانی بے ضابطگیوں، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور معاشی تناؤ کے خلاف نوجوانوں کی تحریک انتہائی پرتشدد رخ اختیار کر گئی۔ پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے پہلے ہی روز ہزاروں کی تعداد میں طلبہ، خواتین اور بزرگ سڑکوں پر نکل آئے، جس کے نتیجے میں دارالحکومت نئی دہلی میدانِ جنگ میں تبدیل ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا کی طنزیہ مہم سے جنم لینے والی اور اب قومی مزاحمت کا استعارہ بننے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کی اپیل پر اتوار کی رات سے ہی ملک بھر سے مظاہرین جنتر منتر پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ پیر کے روز جیسے ہی مظاہرین نے پارلیمان کی طرف پیش قدمی کی، سیکیورٹی فورسز نے انہیں روکنے کے لیے شدید لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل داغے۔ حکام نے احتجاج کو کچلنے کے لیے شہر بھر میں دفعہ 163 نافذ کرتے ہوئے عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی تھی، جبکہ نئی دہلی کو مختلف سیکیورٹی زونز میں تقسیم کر کے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ تاہم، مظاہرین نے تمام تر سیکیورٹی رکاوٹیں توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی، جس پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اس پرتشدد کارروائی کے نتیجے میں درجنوں مظاہرین زخمی ہو گئے جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سوربھ داس نے پولیس کارروائی پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے دریغ اور وحشیانہ استعمال کیا ہے۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں، امتحانی نظام میں شفاف اصلاحات کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو مالی معاوضہ دیا جائے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق یہ احتجاج محض دہلی تک محدود نہیں رہا بلکہ بنگلورو، ممبئی اور گوا میں بھی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ تمام اہم اپوزیشن جماعتوں نے پولیس تشدد کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دوسری جانب نوجوانوں کی حمایت میں گزشتہ 21 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف ماحولیاتی و سماجی کارکن سونم وانگچک کو پولیس نے جنتر منتر سے زبردستی اٹھا کر صفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا ہے، جس سے مظاہرین کے اشتعال میں مزید اضافہ ہوا ہے۔سیاسی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امتحانی دھاندلیوں اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے باعث حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) شدید عوامی اور سیاسی دباؤ کی زد میں ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ملک گیر تحریک مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی امتحان ثابت ہو رہی ہے اور اس نے بھارتی سیاست اور معاشرے میں موجود اندرونی تقسیم اور غیر یقینی صورتحال کو طشت از بام کر دیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں