کوئٹہ(ڈیلی آوازٹائمز)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی سینئر نائب صدر اور ضلع کوئٹہ کے سیکرٹری سید شراف آغا نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر میں واٹر ٹینکرز مالکان کی ہڑتال کے باعث شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ محکمہ واسا پہلے ہی شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں ناکام ہوچکا ہے، جبکہ واٹر ٹینکرز کی بندش نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ آج شہر کے لاکھوں شہری پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں، لیکن حکومت اور ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔سید شراف آغا نے کہا کہ چند روز قبل 2500 سے 3000 روپے میں ملنے والا پانی کا ٹینکر مصنوعی قلت کے باعث اب بلیک مارکیٹ میں 7000 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران اور بااثر طبقات کو پانی کی سہولت آسانی سے میسر ہے، جبکہ عام شہری خصوصا غریب عوام پانی کے حصول کے لیے دربدر ہیں، جو امتیازی رویہ ہے۔پشتونخوامیپ رہنما نے واٹر ٹینکر مالکان کی گرفتاریوں کے ردعمل میں شہر کو پانی سے محروم کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو یرغمال بنا کر مطالبات منوانا درست نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ جائز مطالبات مذاکرات کے ذریعے حل کرے، تاہم کسی بھی تنازعے کی سزا لاکھوں شہریوں کو نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے حکومت، کمشنر کوئٹہ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور محکمہ واسا سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بحران کا نوٹس لیا جائے اور شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں پانی کے بحران کے مستقل حل کے لیے پائیدار منصوبہ بندی ناگزیر ہے






