افغان طالبان کیخلاف مسلح مزاحمت میں شدت،ہزاروں نوجوان رجیم کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے

بدخشاں (ڈیلی آوازٹائمز) افغان طالبان کیخلاف مسلح مزاحمت میں شدت،ہزاروں نوجوان رجیم کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔افغان طالبان کیساتھ حالیہ دنوں میں مسلح مخالف گروپس کی جھڑپوں نے رجیم کے افغانستان پرمکمل کنٹرول کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے۔نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ طالبان رجیم کیخلاف افغان نوجوانوں کی بڑی تعدادان کیساتھ شمولیت اختیارکررہی ہے۔این آرایف کے دعوے کے مطابق بدخشاں، بلخ، پنجشیرسمیت مختلف علاقوں سے 2ہزار سے زائد نوجوان مزاحمتی تنظیموں میں شامل ہوچکے ہیں۔نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے مطابق بدخشاں وطن کے حقیقی فرزندوں کے ہاتھوں میں جا رہا ہے۔دوسری جانب افغان صحافی عثمان بازگر کے مطابق فریڈم فرنٹ نیزیباک میں طالبان کی چوکی پر قبضے کا اعلان کردیا۔سابق افغان سفارت کار فیاض غیاثی نے افغان طالبان پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں آزادی کوکچل دیاگیا تاہم بدخشاں سمیت شمالی وشمال مشرقی صوبے طالبان سے آزاد کرائے جائیں گے۔افغانستان کے صوبہ بدخشاں میں عسکری جھڑپوں اورطالبان مخالف گروپس کی پیش قدمی نے رجیم کے امن واستحکام کے دعوؤں کی قلعی کھول دی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں