کوئٹہ(ڈیلی آوازٹائمز) پنجاب خیبرپختونخوا بس یونین کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ظاہر شاہ کاکڑ، جنرل سیکرٹری وزیر خان کاکڑ نے حکومت کی جانب روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرول میں چالیس روپے اضافہ کرکے اگلے ہی دن ایک روپیہ کمی کا اعلان کرنا عوام اور ٹرانسپورٹ شعبے کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ یہ اقدام کسی ریلیف کے بجائے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ براہ راست ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، ادویات اور روزمرہ استعمال کی تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے دعوے تو کرتی ہے، مگر عملی اقدامات سے مہنگائی کا طوفان کھڑا کر رہی ہے۔ ایک طرف عوام بے روزگاری، غربت اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، دوسری جانب پٹرولیم قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کرکے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت کو واقعی عوام کا احساس ہے تو نمائشی اعلانات کے بجائے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کرے، بصورت دیگر ٹرانسپورٹرز، مزدور، تاجر اور عوام احتجاج کا آئینی حق استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں کمی کی جائے، ٹرانسپورٹ شعبے کو خصوصی ریلیف دیا جائے اور ایسے معاشی فیصلوں سے گریز کیا جائے جو عوام کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر موجودہ پالیسی برقرار رہی تو آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز کی دیگر تنظیموں سے مشاورت کے بعد سخت احتجاجی لائحہ عمل، جس میں پہیہ جام ہڑتال بھی شامل ہو سکتی ہے، کا اعلان کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے






