کوئٹہ(ڈیلی آوازٹائمز) بلوچستان میڈیا فورم (B.M.F) نے اپنے جاری کردہ اعلامیہ میں واضح کیا ہے کہ بلوچستان کے میڈیا ورکرز، صحافی برادری اور اخباری صنعت کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی، امتیازی سلوک یا زیادتی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ فورم نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں اور مشکل ترین حالات میں عوام تک درست اور بروقت معلومات پہنچانے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں، اس لیے ان کے مسائل کا فوری اور مستقل حل حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے والے علاقائی نامہ نگار نہایت محدود وسائل اور سخت حالات کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کر رہے ہیں، لیکن انہیں بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔ فورم نے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ تمام رجسٹرڈ علاقائی نامہ نگاران کے لیے حکومتی سطح پر ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے تاکہ وہ مالی پریشانیوں سے نکل کر بہتر انداز میں صحافتی خدمات انجام دے سکیں۔بلوچستان میڈیا فورم نے اس امر پر بھی زور دیا کہ صوبے کے شاعروں، ادیبوں، قلمکاروں اور لکھاریوں نے بلوچستان کی زبان، ثقافت، تاریخ اور مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے، مگر افسوس کہ انہیں وہ سرکاری سرپرستی اور حوصلہ افزائی نہیں مل سکی جس کے وہ مستحق ہیں۔ فورم نے مطالبہ کیا کہ ادبی شخصیات کے لیے خصوصی فنڈز، اعزازات، وظائف اور اشاعتی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ علمی و ادبی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بلوچستان کے میڈیا ورکرز دہشت گردی، بدامنی، معاشی مشکلات اور محدود وسائل کے باوجود اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر صحافتی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کو چاہیے کہ صحافیوں کی فلاح و بہبود، تحفظ، علاج، انشورنس اور مالی معاونت کے لیے جامع اور مثر پالیسی مرتب کرے۔بلوچستان میڈیا فورم نے حکومتِ بلوچستان، وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ میڈیا انڈسٹری کو درپیش معاشی بحران کے خاتمے، اخبارات کی بقا، صحافیوں کے روزگار کے تحفظ اور آزادی صحافت کو یقینی بنانے کے لیے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔ فورم نے واضح کیا کہ صحافیوں، میڈیا ورکرز اور اخباری صنعت کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، جمہوری اور قانونی فورم پر بھرپور آواز بلند کی جائے گی اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا ناانصافی قبول نہیں کی جائے گی






