اسلام آباد(ڈیلی آوازٹائمز)خودمختار ویلتھ فنڈز کے لئے واضح قانون سازی ضروری ہے، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے اپنے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کے خود مختار ویلتھ فنڈ بین الاقوامی مالیات کے شعبہ میں انتہائی اہم حیثیت اختیار کر چکے ہیں ان کے اثاثہ جات کا مجموعی حجم 16 ٹریلین ڈالر تک بڑھ چکا ہے جبکہ 2008 میں خودمختار ویلتھ فنڈز کے اثاثہ جات کی مالیت 3 ٹریلین ڈالر تھی۔آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ خود مختار ویلتھ فنڈز پبلک ہیلتھ میں بہتری اور ترقی کے ساتھ ساتھ آئندہ نسلوں کے لئے بھی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ ویلتھ فنڈز کے حجم میں مسلسل اضافہ کے باعث ان کا کردار حکومتی بجٹس سے بین الاقوامی بچتوں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی اور صنعتی شعبوں تک بڑھ چکا ہے۔ تیزی سے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے تناظر میں خودمختار ویلتھ فنڈز کو مزید لچک دار بنانے کی ضرورت ہے۔آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ویلتھ فنڈز کے حوالے سے جامع قانون سازی کے ذریعے کوئی بھی ملک اپنی قومی دولت کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ قومی و اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کو یقینی بنا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ویلتھ فنڈز کے حوالے سے موجود قوانین میں خامیاں اور احتساب کی عدم موجودگی کے باعث ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے






