خیبر + باڑہ (ڈیلی آواز ٹائمز/ڈسٹرکٹ بیورو)جمعیت علمائے اسلام جے یو آئی ضلع خیبر کے رہنماؤں مولانا حضرت خان اور سید کبیر آفریدی نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں مساجد و مدارس کو بارودی مواد سے تباہ کرنا ناقابلِ برداشت، افسوسناک اور مذہبی اقدار پر حملہ ہے۔ حکومت فوری طور پر متاثرہ مساجد و مدارس کی تعمیرِ نو یقینی بنائے، بصورت دیگر علماء، مشائخ اور عوام احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مہتمم مدرسہ دربی خیل مولانا مسافر گل، مولانا عبدالعزیز، مولانا بلال سمیت دیگر علمائے کرام، منتظمین، مہتممین اور کارکنان بھی موجود تھے۔
مقررین نے کہا کہ مدرسہ دربی خیل تیراہ میدان اور مدرسہ درے چونے قمبر خیل تیراہ کو بارودی مواد سے تباہ کرنا انتہائی قابلِ مذمت اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس دینی تعلیم، امن، اخلاق اور معاشرتی اصلاح کے مراکز ہیں، جن کی تباہی سے نہ صرف تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں بلکہ عوام کے مذہبی جذبات بھی شدید مجروح ہوئے ہیں۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ مدارس کی فوری بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ کی دینی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ بحال ہو سکے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
جے یو آئی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے متاثرہ مساجد و مدارس کی تعمیرِ نو کے لیے فوری عملی اقدامات نہ کیے تو علماء، مشائخ اور عوام مشترکہ طور پر احتجاجی تحریک شروع کریں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر علماء کرام نے حکومت سے اپیل کی کہ وادی تیراہ کے عوام کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے مساجد و مدارس کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے اور علاقے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔






