نئے صوبوں کے قیام اور فاٹا و پاٹا میں ناجائز، غیر آئینی وفاقی ٹیکسز کے نفاذ کو مسترد کرنے کا اعلان

خیبر+جمرود (ڈیلی آواز ٹائمز/نگار علی) فاٹا لویہ جرگہ سپریم کونسل کا اہم اجلاس آج جمرود میں ملک بسم اللہ آفریدی کے حجرے میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت فاٹا لویہ جرگہ کے صدر ملک بسم اللہ آفریدی نے کی، جس میں فاٹا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین اور مشران نے شرکت کی۔
اجلاس میں ملک خان مرجان وزیر، ملک اسرار اللہ، ملک فضل الرحمان، ملک عبدالرزاق آفریدی، ملک رحیم منگل، ملک نائب خان، ملک ولایت شاہ، ملک ایرات خان، ملک وارث آفریدی، ملک اکبر خان جبار، ملک خالد اکبر جعفر، ملک ڈاکٹر تراب، ملک میر افضل، زیارت گل، ملک الف خان، ملک ضراف، ملک حنیف اور دیگر قبائلی عمائدین شریک ہوئے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جرگہ مشران نے نئے صوبوں کے قیام اور فاٹا و پاٹا میں وفاقی ٹیکسز کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی عوام فاٹا کی مزید تقسیم اور کسی بھی قسم کے ناجائز و غیر آئینی ٹیکسز کے نفاذ کو قبول نہیں کریں گے۔
مشران نے کہا کہ قبائلی عوام نے فاٹا انضمام کو ہی مسترد کیا ہے، لہٰذا جب انضمام ہی قابلِ قبول نہیں تو فاٹا کی مزید تقسیم، نئے صوبوں کا قیام اور ٹیکسز کا نفاذ کس طرح قبول کیا جا سکتا ہے۔ حکومت فاٹا کے معاملات میں مزید کسی قسم کا عمل دخل نہ کرے۔
جرگہ مشران نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ زیرِ سماعت ہے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ عدالتی فیصلے تک فاٹا کے حوالے سے کسی بھی قسم کے نئے اقدامات سے گریز کرے۔
مشران نے واضح کیا کہ قبائلی عوام 9/11 سے قبل والے فاٹا کے نظام کی بحالی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نہ پولیس نظام کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی پٹواری نظام کو قبول کرتے ہیں۔
مشران نے مزید کہا کہ محکمہ سیٹلمنٹ کو فاٹا میں کسی قسم کا عمل دخل نہیں کرنا چاہیے۔ حکومت فاٹا اور پاٹا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور قبائلی علاقوں کے عوام کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں۔
جرگہ مشران نے تیراہ کے آئی ڈی پیز کی 10 اکتوبر کو بروقت اور باعزت واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو مقررہ تاریخ پر ہر صورت میں اپنے گھروں کو واپس بھیجا جائے اور واپسی کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر نہ کی جائے۔
جرگہ مشران نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فاٹا اور پاٹا میں وفاقی ٹیکسز کے نفاذ کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کسی بھی اقدام سے قبل قبائلی عوام کی رائے کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔
آخر میں فاٹا لویہ جرگہ سپریم کونسل کے مشران نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کے قیام، فاٹا و پاٹا میں وفاقی ٹیکسز کے نفاذ اور قبائلی عوام کے حقوق کے خلاف کسی بھی اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں فاٹا لویہ جرگہ ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر اپنی آواز بلند کرے گا اور قبائلی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں