تحریک انصاف کا عمران خان سے ملاقات کیلئے ملک گیر احتجاج کا اعلان

اسلام آباد (ڈیلی آواز ٹائمز/نیوز ڈیسک)تحریک انصاف کا عمران خان سے ملاقات کیلئے ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کا عمران خان سے ملاقات کیلئے ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا.

تحریک انصاف نے کل سے سپریم کورٹ کے باہر اور جمعرات سے ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا.

عمران خان سے ملاقات نہ ہوئی تو جمعرات کو ہر چوک ڈی چوک بنا دیں گے، سہیل آفریدی نے بڑا اعلان کردیا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کے حوالے سے سخت بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ملاقات نہ ہوئی تو جمعرات کو ہر چوک ڈی چوک بنا دیں گے۔ بیان کے بعد پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمتِ عملی اور عمران خان سے ملاقات کے معاملے پر سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں قید پارٹی قائد عمران خان کی صحت خراب ہے اور ان کی اہل خانہ اور ڈاکٹروں سے ملاقات کرائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کے اہل خانہ کی موجودگی میں اور ان کے ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں بہترین ہسپتال سے ان کا علاج کرایا جائے۔

سوموار 10 اگست کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر نہ مانا گیا تو پاکستان بھر سے تحریک انصاف کے اراکین پارلیمنٹ کل سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان عمران خان کے اہل خانہ اور ڈاکٹروں کی ان سے ملاقات کیلئے حکم جاری کریں۔

اگر ملاقات کرادی جاتی ہے تو “پاکستان تحریک انصاف”کی مکمل قیادت اور عمران خان کے اہل خانہ یہ ضمانت دیتے ہیں کہ وہ ملاقات کے بعد باہر آکر کوئی سیاسی بات نہیں کرینگے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ اگر منگل کے روز ملاقات نہ کرائی گئی تو جمعرات کو تمام اراکین پارلیمنٹ اڈیالہ جیل جائیں گے اگر اس روز بھی ملاقات نہ کرائی گئی تو جمعرات کی رات 10 بجے پاکستان کے کئی علاقوں میں احتجاج شروع کردیا جائیگا۔ اور
پاکستان کے ہرچوک کو ڈی چوک بنادیاجائیگا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے مطالبات کیلئے 27 ستمبر کو بھی اسلام آباد جانے کا اعلان کررکھا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نہ کہا کہ 27 سمتبر کا لانگ مارچ اپنی جگہ موجود ہے اور 27 ستمبر کو پورے پاکستان کے لوگ نکلیں گے پھر کوئی بھی صورتحال سنبھال نہیں پائینگے۔

کیا عمران خان سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں جمعرات کو بڑا احتجاج ہوگا؟ آپ کی کیا رائے ہے؟ کمینٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں