احمدپورسیال، گردوں کے مریضوں کے ساتھ سنگین ناانصافی، سہولیات کا فقدان

احمدپورسیال ( ڈیلی آواز ٹائمز/آصف مجید سبحانی)تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمدپورسیال میں گردوں کے مریضوں کو علاج کی بنیادی سہولت تک میسر نہ ہونا محکمہ صحت کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے حکومتی سطح پر صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات اور عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے دعوے اپنی جگہ، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ احمدپورسیال کے گردوں کے مریض شدید کرب، اذیت اور بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ذرائع کے مطابق تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمدپورسیال میں اس وقت صرف تین ڈائیلاسز مشینیں موجود ہیں جبکہ بڑھتے ہوئے مریضوں کے باعث روزانہ محدود تعداد میں ہی ڈائیلاسز ممکن ہو پاتی ہیں نتیجتاً مریضوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں کئی مریضوں کو باری نہ ملنے پر واپس لوٹنا پڑتا ہے جبکہ بعض کی جانیں بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے خطرے میں پڑ جاتی ہیں تشویشناک امر یہ بھی ہے کہ اتنے اہم شعبے میں نیفرولوجسٹ (گردوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر) کی تعیناتی تک نہیں کی گئی ماہر ڈاکٹر کی عدم دستیابی کے باعث مریضوں کو مجبوری میں نشتر ہسپتال و ابن سینا ہسپتال ملتان یا دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے جہاں پہنچنے کے لیے غریب اور سفید پوش خاندانوں کو ہزاروں روپے کرایہ، ادویات اور دیگر اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں جبکہ روزگار سے محرومی الگ مسئلہ بن جاتی ہے ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ممتاز حسین ندیم بھی اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ ہسپتال میں صرف تین ڈائیلاسز مشینیں موجود ہیں اور مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث شدید مسائل درپیش ہیں سوال یہ ہے کہ جب انتظامیہ خود سہولیات کی کمی تسلیم کر رہی ہے تو پھر ان مسائل کے مستقل حل کیلئے عملی اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے۔۔۔۔؟ شہریوں، سماجی حلقوں اور مریضوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت ڈائیلاسز نہ ہو تو گردوں کے مریض کی زندگی ہر لمحہ خطرے میں رہتی ہے ایسے میں صرف چند مشینوں پر پورے علاقے کے مریضوں کا انحصار کسی سانحے کو دعوت دینے کے مترادف ہے عوام کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں صرف دعوؤں اور تصویری کارروائیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، سیکرٹری صحت پنجاب اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال احمدپورسیال میں فوری طور پر ڈائیلاسز مشینوں کی تعداد کم از کم 10 کی جائے مستقل نیفرولوجسٹ تعینات کیا جائے ڈائیلاسز سینٹر کو 24 گھنٹے فعال کیا جائے اور مریضوں کو بروقت اور مفت علاج کی فراہمی یقینی بنائی جائے عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس نہ لیا گیا تو سہولیات کے فقدان کے باعث کسی بھی قیمتی جان کا ضیاع متعلقہ حکام کی غفلت تصور کیا جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں