پشاور(ڈیلی آواز ٹائمز/ نیوز ڈیسک) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ “بلوچستان سے معززین بلا کر ان سے توہین آمیز گفتگو کی گئی”۔انہوں نے کہا “تم باعزت لوگوں کو ذلیل کرو گے، 2 ٹکے کے لوگوں کو مسلط کرو گے”۔
مولانا نے سوال اٹھایا کہ “نئے صوبے ایک ادارے کی خواہش؟ صوبوں کو توڑنے کی وجہ وسائل پر قبضہ؟”
انہوں نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “کوئٹہ چھاونی کے قریب ہنہ اوڑک اور پہاڑ پر دہشتگردوں نے حملہ کیا، لوگوں کو شہید کیا۔ زیارت میں بھی یہی ہوا”۔
ان کا کہنا تھا کہ “بلوچستان میں آپ کی رٹ نہیں۔ بلوچستان کے لوگ کراچی نہیں جا سکتے، راستے محفوظ نہیں۔ کراچی کوئٹہ شاہراہ غیر محفوظ ہے۔ بلوچستان میں آپ گاڑی میں اکیلے سفر کا تصور نہیں کر سکتے”۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا “ہمیں ٹھنڈی زمین، امن تو دو۔ اس وقت صوبوں کو توڑنے کے بعد کسی اور کی حکومت ہوگی”۔
انہوں نے مزید کہا کہ “بلوچ علاقوں میں خونریزی ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، کشمیر میں تین ماہ ہو گئے دھرنا جاری ہے۔ یہ ان سے بات نہیں کر رہے۔ گھر میں آگ لگی تم بٹوارے کی بات کرتے ہو”۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ “پاکستان میں جبر کا ماحول ہے۔ اسلام میں جبر کی اجازت نہیں۔ طاقت کی بنیاد پر قوم پر مسلط ہونے والے”۔






