چین کا پاکستان کو جانوروں کی خطرناک بیماریوں کے خلاف ویکسینز کا تحفہ، لائیو اسٹاک شعبے میں تعاون مزید مضبوط

اسلام آباد (ڈیلی آوازٹائمز) پاکستان اور چین کے درمیان زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں تعاون مزید مستحکم ہوگیا۔ عوامی جمہوریہ چین کی وزارتِ زراعت و دیہی امور نے پاکستان کو لمپی اسکن ڈیزیز (LSD) اور بروسیلا میلیٹینسس کے خلاف ویٹرنری ویکسینز کا عطیہ کردیا، جسے جانوروں کی صحت کے تحفظ اور کسانوں کو معاشی نقصانات سے بچانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ جانوروں کو مہلک اور متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے، کسانوں کے معاشی نقصانات کم کرنے اور لائیو اسٹاک کی پیداوار میں اضافے کے لیے چین کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اسلام آباد میں نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (این اے آر سی) میں ویکسینز کی حوالگی کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین، چینی سفارتخانے کے ناظم الامور شی یوان چیانگ، سیکریٹری وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، چیئرمین پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل، اعلیٰ سرکاری حکام، چینی سفارتخانے کے نمائندگان، سائنسدانوں اور لائیو اسٹاک ماہرین نے شرکت کی۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے حکومتِ چین، چینی وزارتِ زراعت و دیہی امور اور چینی سفارتخانے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ویکسینز کا عطیہ پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی اور زراعت، لائیو اسٹاک، تحقیق، سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کا عملی ثبوت ہے۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ لائیو اسٹاک پاکستان کی زرعی معیشت اور دیہی آبادی کے معاشی استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ خصوصاً چھوٹے کاشتکاروں کے لیے مویشی نہ صرف آمدن بلکہ معاشی تحفظ کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ لمپی اسکن ڈیزیز اور بروسیلا میلیٹینسس جیسی بیماریاں جانوروں کی صحت کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ دودھ اور گوشت کی پیداوار، افزائشِ نسل اور مجموعی پیداواری صلاحیت میں کمی کا سبب بن سکتی ہیں، جس سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔وفاقی وزیر کے مطابق متعدی بیماریوں سے مویشیوں کو محفوظ رکھنے، بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے اور پیداواری نقصانات کم کرنے کے لیے بروقت ویکسینیشن مؤثر ترین حفاظتی اقدامات میں شامل ہے۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ چین کی جانب سے عطیہ کردہ ویکسینز پاکستان میں جانوروں کی بیماریوں سے بچاؤ کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے اور لائیو اسٹاک پر بیماریوں کے اثرات کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔انہوں نے واضح کیا کہ جانوروں کی صحت کا تحفظ کسانوں کے معاشی مفادات، لائیو اسٹاک کی پیداوار میں اضافے اور اس شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر نے لائیو اسٹاک کی ترقی، ویٹرنری سروسز، زرعی تحقیق، بائیوٹیکنالوجی اور بیماریوں کے تدارک کے شعبوں میں چین کی مہارت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کے تجربات سے مزید استفادہ کرنے اور ادارہ جاتی و تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان زرعی اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے سے کسانوں اور دیہی آبادی کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔رانا تنویر حسین نے واضح کیا کہ عطیہ کردہ ویکسینز کو تمام متعلقہ تکنیکی اور ریگولیٹری تقاضوں، معیار، مناسب کولڈ چین، درست طریقہ استعمال اور مؤثر نگرانی کو یقینی بناتے ہوئے استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق صوبائی لائیو اسٹاک محکموں، ویٹرنری سروسز اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر جانوروں کی صحت سے متعلق اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کے لیے تعاون جاری رکھے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں