خضدار (ڈسٹرکٹ بیوروچیف/عبد الکریم زہری) کچھ دن قبل میٹرک کے ایک بچے سے ملاقات ہوئی، جس کے حالیہ دنوں میں بورڈ کے سالانہ امتحانات چل رہے تھے۔ پیپرز کی تیاری نہ ہونے کے برابر تھی، کچھ guess اور guidanceدیتے ہوئے کریدا تو بھیانک انکشاف ہوا کہ دوران پیپر نہ صرف نقل کرنے کے کھلے مواقع میسر ہیں بلکہ جو مواد اپنے پاس نہ ہو ممتحن کی جانب سے مہیا بھی کیا جاتا ہے۔ اور یہ ممتحن حضرات کوئی چپڑاسی، کلرک ٹائپ لوگ نہیں بلکہ ہماری نسلوں کے معمار اساتذہ کرام ہی ہیں۔
آج سے 14,15 سال قبل جہالت کے دور میں جو کچھ ہوتا تھا آج اس سے کہیں زیادہ اور منظم انداز سے یہ بددیانتی کی جاتی ہے۔
میری محترم و مکرم اساتذہ کرام اور والدین حضرات سے دست بستہ گزارش ہے کہ نقل کرنا اس دور کی بدترین بددیانتی ہے۔ یہ ہماری نسلوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلواڑ ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ بغیر میڈیکل کالج گئے کسی کو سفارش کی بنا پر ایم بی بی ایس کی ڈگری دے دی جائے۔ کسی مستری کے ہاتھ میں جہاز کی چابی دے دی جائے۔
ایسے ہی ہے کہ بغیر قابلیت اور علم کے نقل کی بنا پر ڈگریاں بانٹ دی جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھر میں دو دو انجینیئر ہونے کے باوجود بجلی کا بورڈ لگانے کے لیے مکینک بلانا پڑتا ہے۔
اس بہت بڑی بددیانتی کے بعد نوکریاں تلاشنے میں پریشانی و پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے پھر سفارش و رشوت دے کر نوکری کے لیے تگ و دو کرتے ہیں۔ پھر وہی نااہل عوام سے رشوت و بددیانتی کر کے اچھی خاصی رقم بٹورتے ہیں۔ یہ پورا سرکل ہے۔
یہ ایک دو پیپرز کے نقل کی بات نہیں یہ نسلوں کے بقا کی بات ہے۔ صحیح و غلط میں تمیز کرنے کی بات ہے۔ آج اگر استاد خود اس بددیانتی کا حصہ بنیں گئے، علمی خیانت کریں گے تو علم کی جگہ جہالت ہی پروان چڑھے گی۔
ہار کا ڈر بچوں سے نکالنا ہوگا، اگر ہار کو لعنت تصور کیا جائے تو بددیانتی ایسے ہی پروان چڑھے گی۔ بچوں کو باور کرانا ہوگا کہ اپنی کوشش، محنت کی بنا پر ہار کر گھر لوٹنا ہار نہیں اصل جیت ہوتی ہے۔
ہر چیز کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ عملی زندگی میں محنت اور کوشش ہی آپ کا مستقبل سنوار سکتی ہے بے حمیت و غیر اہم ڈگری آپ کے مستقل کی ضامن نہیں بن سکتی۔ بچوں میں خود اعتمادی، تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ جو بچہ نقل کرنے کے نِت نئے طریقے ایجاد کرسکتا ہے اس کو ڈائریکشن دی جائے تو وہ علمی میدان میں بھی کارہائے نمایاں سرانجام دے سکتا ہے۔
جو سچ کہوں تو برا لگے جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں۔
یہ سماج جہل کی زد میں ہے یہاں بات کرنا حرام ہے.
خدا راہ اس نحوست سے باز آئیں اور طلبا کو اس خناسیت سے بچائیں






