اسلام آباد( روزنامہ آواز ٹائمز) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بیرونی ادائیگیوں کو یقینی بنایا جارہا ہے ،ہم نے چائنہ کے دونوں بینکوں سے رابطہ کرکے طے کیا ہے کہ فاسٹ ٹریک سے ادائیگی کی جائے گی ،چینی بینک کو 300ملین ڈالرز کی ادائیگی بھی کردی گئی ہے ، چینی بینکوں کی ادائیگی میں کوئی جرمانہ نہیں کیا جائے گا ، شیل پاکستان میں اپنا کاروبار بند نہیں کررہا بلکہ اپنے ایک انٹرنیشنل پارٹنر کو شیئرز فروخت کررہا ہے،شیل کمپنی کا کوئی بھی ملازم بے روزگار نہیں ہوگا ۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بیرونی ادائیگیوں کو یقینی بنایا جا رہا ہے، ہم نے چین کے 2 بینکوں سے رابطہ کیا، طے ہوا کے فاسٹ ٹریک سے ادائیگی کی جائے گی، ہم نے بینکوں کو آفر کیا کہ ہم پیمنٹ پہلے دے دیں گے، ہم نے کہا کہ جلدی پیمنٹ کی ہم کوئی جرمانہ نہیں دیں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ 30 کروڑ ڈالر کی چین کو وقت سے پہلے ادائیگی کر دی، 12 تاریخ کو ہم نے پیمنٹ کی چین نے اب دوبارہ پیمنٹ واپس کر دی، ہم نے چینی بینکوں کے ساتھ کامیابی سے اپنے معاہدے کو پورا کیا، اگلے کچھ دنوں میں 300 ملین ڈالر بھی واپس آ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو ہم پیمنٹ واپس کرتے ہیں اور ان کا پراسس مکمل ہونے کے بعد پاکستان کو پیسے واپس مل جاتے ہیں، کبھی کبھار اس پیمنٹ میں چند ماہ بھی لگ جاتے ہیں۔ہم نے چائینز بینک کو آفر کیا کہ آخری ہفتے سے پہلے ہم پیمنٹ کر دیتے ہیں، ادائیگی پہلے کرتے ہیں تو بینک تھوڑا سا جرمانہ کرتے ہیں، ہم نے ان سے کہا کہ جلدی پیمنٹ کی بھی کوئی فیس نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ 2 ماہ قبل ایک ریٹنگ ایجنسی نے کہا تھا کہ مئی اور جون میں پاکستان نے 3.7 ارب ڈالرز دینی ہیں، یہ کیسے دیں گے، میں بتا دوں کہ تمام ادائیگیاں وقت پر ہوں گی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے شیل کمپنی کے حوالے سے خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ شیل پیٹرولیم کمپنی پاکستان میں اپنا بزنس بند نہیں کر رہی، شیل ایک اور انویسٹر کو اپنے شیئرز فروخت کرنا چاہتا ہے، شیل صرف پاکستان نہیں بلکہ کئی ممالک میں بزنس کر رہا ہے۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ کہا جا رہا ہے انٹرنیشنل شیل کمپنی پاکستان شیل کمپنی کو اپنا بزنس فروخت کر رہی ہے، شیل کمپنی پاکستان میں اپنا بزنس بند نہیں کر رہی یہ غلط بات ہے، کہا جا رہا ہے کہ کئی سو ملازمین فارغ ہو جائیں گے لیکن ایسی بھی کوئی بات نہیں۔انہوں نے بتایا کہ شیل کمپنی پاکستان کے قوانین کی پابند ہے اس کو مد نظر رکھنا ہوگا، شیل کی پانی پالیسی ہے پاکستان کے حالات سے کوئی تعلق نہیں ہے، شیل پاکستان میں اپنی انویسٹمنٹ ختم نہیں کر رہا، شیل نے شیئرز کسی اور کو دینے کی اسٹاک ایکس چینج کو اطلاع کر دی ہے۔اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ شیل کمپنی کے پیٹرول پمپ ملک میں اسی طرح چلیں گے کوئی بے روزگار نہیں ہوگا۔






