اسلام آباد(روزنامہ آواز ٹائمز)اسلام آباد کی مقامی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں حاضری لگانے کے بعد واپس جانے کی اجازت دیدی۔ فریقین کے وکلا کے دلائل جاری ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے جج جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں ہوئی۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں پہنچے، وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ بھی عدالت میں موجود تھے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا تارڑ کا ویڈیو پیغام کمرہ عدالت میں دکھایا گیا، ویڈیو پیغام میں عطا تارڑ ن لیگ کے کارکنان کو عدالت پہنچنے کا کہہ رہے تھے۔جج ہمایوں دلاور نے چیئرمین پی ٹی آئی کو حاضری لگا کر عدالت سے باہر جانے کی اجازت دیدی، جس کے بعد عمران خان واپس روانہ ہوگئے۔کیس کی سماعت کے دوران صحافیوں کو عدالت کے اندر جانے سے روک دیا گیا، سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری کمرہ عدالت کے باہر موجود تھی۔توشہ خانہ کیس میں وکیل صفائی خواجہ حارث نے گواہ وقاص ملک پر جرح کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ عدالت کیسے کہہ سکتی ہے کہ گواہ کے دستخط اور انیشلز اصلی ہیں؟۔ جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ آپ عدالت کو فیصلہ یا ریمارکس دینے سے نہیں روک سکتے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ آپ تو ہمیں وقت پر فیصلہ بھی نہیں مہیا کرتے۔گواہ وقاص نے عدالت کو بتایا کہ صفحہ ایک سے لے کر 44 تک منسلک کئے گئے دستاویزات پر میرے دستخط نہیں، ان صفحات میں پہلے 4 تصدیق شدہ ہیں باقی صفحات غیر تصدیق شدہ ہیں۔جج نے وکلا کو ہدایت کی کہ آپ آپس میں بات نہ کریں عدالت سے بات کریں، عدالت کا ماحول خراب نہ کریں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے وکیل کو ہدایت کی کہ دورانِ جرح نہ بولیں، آج میں نے دیگر وکلا کے خلاف ایکشن لیا ہے جو کہنا ہے عدالت کو کہیں۔






