مظفر آباد(آوازٹائمز) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں کینسر کی تشخیص اور علاج کے لیے قائم کیے گئے کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن، انکولوجی اینڈ ریڈیالوجی (کنور) کا افتتاح کیا اور کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر کوئی کام نہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مریضوں کے علاج کے لیے تمام جدید سہولیات 24 گھنٹے دستیاب ہوں اور مریضوں کے ساتھ ایسا رویہ اپنایا جائے کہ انہیں حوصلہ اور سہولت ملے۔افتتاحی تقریب میں وزیر اعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور، وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا ثنا اللہ، امیر مقام، آزاد کشمیر کے ارکان اسمبلی، چیئرمین پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن، پروفیسرز اور سرجنز بھی موجود تھے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے آزاد کشمیر کے مریض علاج کے لیے سینکڑوں میل کا سفر کرتے تھے، جو تکلیف دہ اور مہنگا تھا، اس نئے ہسپتال سے مقامی سطح پر علاج ممکن ہوگا۔ انہوں نے پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن، ایس پی ڈی، مخیر حضرات اور ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہسپتال کے قیام میں کردار ادا کیا۔چیئرمین پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن راجا علی رضا انور نے کہا کہ ملک میں کینسر کے علاج کے لیے ایٹمی توانائی کمیشن کے 21 ہسپتال کام کر رہے ہیں، جن میں آزاد کشمیر میں ایک ہسپتال بھی شامل ہے۔ ان ہسپتالوں میں سالانہ تقریباً دس لاکھ مریضوں کا علاج ہوتا ہے اور 60 فیصد مریض آخری مرحلے میں ہوتے ہیں۔ڈی جی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی رافیل ماریانو گروسی نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور 2050 تک یہ تعداد 75 فیصد بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں ہسپتال کے قیام کو اہم سنگ میل قرار دیا۔افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم نے ہسپتال کے مختلف شعبوں، جدید مشینری اور سہولیات کا بھی معائنہ کیا اور عملے کو ہدایت دی کہ مریضوں کے علاج کے معیار کو عالمی سطح کے مطابق برقرار رکھا جائے






